ہیکاتھنز: ٹیکنالوجی سے معاشرتی مسائل کے حل کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ Code For Pakistan
Image caption پشاور میں مقابلے کے دوران بیس ایپس پیش کی گئیں جن میں سے آٹھ کو کامیاب قرار دیا گیا

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں نہ صرف نوجوانوں میں بےروزگاری کی شرح خاصی زیادہ ہے بلکہ برسرِروزگار ہنرمند افراد بھی کم تنخواہ کی شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں، آمدن میں اضافے کے لیے کمپیوٹر ایپلیکیشن ڈویلپمنٹ خاصی مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔

ایپ ڈویلپمنٹ میں نوجوانوں کی دلچسپی کا مظہر ملک میں ’ہیکاتھنز‘ کا باقاعدگی سے انعقاد ہے۔

’ہیکاتھن‘ عموماً کئی دن تک جاری رہنے والی ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جس میں کثیر تعداد میں کمپیوٹر پروگرامرز شریک ہوتے ہیں۔

سنہ 2014 کو شروع ہوئے بھی چند ہی ہفتے ہوئے ہیں لیکن اس دوران پہلے لاہور اور پھر پشاور میں ہیکاتھنز منعقد ہو چکے ہیں۔

لاہور کی لمز یونیورسٹی میں ہونے والے ہیکاتھن میں ’سواری‘ ایک ایسا ایپ تھا جو سامعین کا پسندیدہ رہا۔

’سواری‘ سفر کا شریک ڈھونڈنے والوں کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے جس پر کسی منتخب راستے پر جانے والا ڈرائیور اور اس راستے پر جانے والے ضرورت مند لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ڈرائیور اپنا اپنا مخصوص راستہ اور اس راستے پر روانگی کے اوقات رجسٹر کراتے ہیں اور ’کار پُول‘ کے خواہش مند ان راستوں کو ڈھونڈ لیتے ہیں جہاں انھیں جانا ہوتا ہے۔

اس ایپ کی خالق مدیحہ حسن نے بتایا کہ انھیں اس پروگرام کا خیال اپنے دفتر کی رہائش گاہ سے دوری اور وہاں آنے جانے میں درپیش مشکلات کی وجہ سے آیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس ایپ کا بیٹا ورژن بنانے کے لیے تین مہینے سے کم وقت درکار ہو گا۔‘

لاہور ہیکاتھون کے دوران کل 15 ایپس بنائی گئیں جن میں سے پانچ کو فاتح قرار دیا گیا۔ ان میں ’سواری‘ کے علاوہ ’پاک صاف،‘ ’بلڈ فار لائف،‘ ’وچ بس‘ اور ’سِوک سپاٹ‘ شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Code For Pakistan
Image caption ہیکاتھن ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ افراد کے لیے ایک اچھا موقع ہے

پاکستان میں ’ہیکاتھن‘ مقابلے منعقد کروانے والی تنظیم ’کوڈ فار پاکستان‘ کی شیبا نجمی کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو معاشرتی بھلائی کے لیے قابل استعمال بنانا چاہتی ہیں۔

ان کے مطابق ’پاکستان میں ہیکاتھن کے لیے لوگوں نے بھرپور شوق دکھایا اور اس کا معیار بھی بہت اچھا تھا۔‘

شیبا نے کہا کہ اس سلسلے میں صوبہ خیبر پختونخوا میں سامنے آنے والی دلچسپی ان کے لیے حیران کن تھی: ’پشاور تو منفرد تھا۔خیبر پختونخوا کی حکومت نے ہیکاتھن میں شرکت کی اور باقاعدہ ایپ کی تجاویز پیش کیں۔‘

پشاور میں مقابلے کے دوران بیس ایپس پیش کی گئیں جن میں سے آٹھ کو کامیاب قرار دیا گیا۔

یہاں پر ’سمارٹ لائف سیور‘ نامی ایپ پہلے نمبر پر رہی۔ یہ ایک اینڈروئڈ پروٹوٹائپ ایپ ہے جو حادثات کی نشاندہی کر کے بچاؤ کے مرکز اور حادثے میں متاثرہ لوگوں کے رشتہ داروں کو اطلاع دیتا ہے۔ یہ ایپ جی پی ایس کوآرڈینیٹس پہچان کر ایس ایم ایس کے ذریعے جائے حادثہ کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس سوال پر کہ یہ ایپلیکیشنز مالی اعتبار سے کتنی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں، شیبا نجمی کا کہنا ہے کہ ’ایک مرتبہ جب ایپ کام کرنے لگتی ہے تو پھر اس کی فروخت کے لیے تشہیر کرنا ہوتی ہے۔‘

ان کے مطابق ’اس سلسلے میں لاہور بریگیڈ نامی ایک ٹیم بنائی گئی ہے جو باقاعدگی سے ان ایپس کو حتمی شکل دے گی اور ’سوِک ہیکنگ‘ جاری رکھے گی۔‘

صوبہ خیبر پختونخوا میں اس سلسلے میں فیلو شپ پروگرام شروع کرنے کے لیے عالمی بینک نے کچھ امداد دینے کا بھی اعلان کیا ہے اور اس پروگرام کے تحت ایپ ڈویلپمنٹ میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی۔

لاہور کی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ٹیک بلاگر خرم ظفر کا خیال ہے کہ ہیکاتھن ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ افراد کے لیے ایک اچھا موقع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان تقاریب میں حکومت کی دلچسپی اس بات کا مظہر ہے کہ وہ ان ایپس کے استعمال میں دلچسپی رکھتی ہے: ’لاہور ہیکاتھن میں مقامی ایم این اے بھی موجود تھے اور پشاور ہیکاتھن میں آئی ٹی منسٹر اور کے پی کے آئی ٹی بورڈ کے چیئرمین اور چیف منسٹر بھی موجود تھے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ گورنمنٹ ان ایپس کو شاید استعمال کرنا چاہے گی۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایپ ڈویلپمنٹ کا شعبہ صرف تکنیکی لوگوں کے لیے ہی مخصوص نہیں بلکہ اس میں ڈیزائنرز ، محققین، ڈیٹا کے ماہرین کے لیے بھی نئی راہیں موجود ہیں۔

اب جبکہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کو معاشرتی مسائل کے حل کے لیے استعمال کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے، ان کوششوں کا فائدہ تبھی ہوگا جب ان ہنرمند افراد اور ان کے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مکمل نظام دستیاب ہو۔

اسی بارے میں