کینسر اور بجلی کی تاروں میں تعلق نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ

بجلی کے کھمبوں اور تاروں کے قریب رہنے والے بچوں کو خون کا سرطان ہونے کا خطرہ دوسرے بچوں کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہوتا۔

یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے جس میں سنہ 1962 اور سنہ 2008 کے درمیان برطانیہ میں لیوکیمیا میں مبتلا ہونے والے 16500 بچوں سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف آکسفرڈ سے منسلک بچوں میں لیوکیمیا کا مطالعہ کرنے والے ایک گروپ کی تحقیق کے مطابق 60 اور 70 کی دہائیوں میں بجلی کی تاروں کے نیچے رہنے والے بچوں کو لیوکیمیا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا تھا، لیکن سنہ 1980 کے بعد ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

محققین نے کہا ہے کہ اگرچہ ان کی نئی تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم اس تحقیق کا اصل مقصد گذشتہ کئی برسوں میں لیوکیمیا میں مبتلا ہونے والے بچوں کا مطالعہ تھا اور یہ دیکھنا تھا کہ ان برسوں میں اس بیماری کے پھیلنے میں کیا اتار چڑھاؤ آئے۔

واضح رہے کہ کینسر کی جو اقسام بچوں میں دیکھنے میں آئی ہیں ان میں ایک تہائی حصہ خون کے سرطان یا لیوکیمیا کا ہے۔ برطانیہ میں ہر سال 15 برس سے کم عمر کے کم وبیش 460 بچے لیوکیمیا میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

تحقیق کرنے والے ماہرین نے مزید کہا کہ انھوں نے لیوکیمیا میں مبتلا ہونے والے 16500 بچوں کا موازنہ 2000 صحت مند بچوں سے کیا جو اسی علاقے میں بجلی کی تاروں کے قریب واقع گھروں میں پلے بڑھے۔

جب گذشتہ کئی برسوں کے تمام اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ بجلی کی تاروں کے قریب رہنے والے بچوں کو لیوکیمیا کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تاہم جب ان اعداد و شمار کو دس دس برس کے ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ سنہ 1960 اور سنہ 70 کی دہائیوں میں جو بچے بجلی کی تاروں سے 600 میٹر کے اندر اندر رہے، ان کو لیوکیمیا کا خطرہ زیادہ تھا۔لیکن سنہ 1980 کے بعد پیدا ہونے والے بچوں میں بجلی کی تاروں سے قربت اور لیوکیمیا کے درمیان کوئی تعلق دکھائی نہیں دیا۔

تحقیق کرنے والے گروپ کی سربراہ کیتھرین بنچ کا کہنا ہے: ’یہ بات بہت حوصلہ افزا ہے کہ ماضی قریب میں ہمیں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ بجلی کی تاروں اور بچوں میں لیوکیمیا کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ اگرچہ یہ جاننے کے لیے کہ آخر سنہ 1980 سے پہلے کے بچوں میں لیوکیمیا کیوں زیادہ ہوا، ہمیں مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم ’والدین کو اطمینان ہونا چاہیے کہ اگر وہ بجلی کے تاروں کے قریب رہتے ہیں تو ان کے بچے کو خون کا سرطان ہونے کا خطرہ دوسرے بچوں سے زیادہ نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں