ہزاروں نے فریاد کی لیکن زرافہ مار دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دنیا کے متعدد چڑیا گھروں نے ماریس کو لینے کی پیشکش کی تھی

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کے چڑیا گھر میں ایک نوجوان زرافے کو بچانے کی مہم ناکام ہو گئی ہے اور اسے اتوار کو مار دیا گیا ہے۔

ماریس نامی زرافے کو بچانے کے لیے ہزاروں افراد نے آن لائن درخواست پر دستخط کیے تھے لیکن چڑیا گھر کی انتظامیہ نے زرافے کو مارنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

چڑياگھر کی انتطامیہ کے مطابق ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ اندرونی افزائش کے عمل کو روکنا ان کا فرض ہے۔

ماریس کو زہریلے انجکشن کی بجائے بولٹ گن سے مارا گیا تاکہ اس کا گوشت زہریلا نہ ہو۔

جراف کے پوسٹ مارٹم کا عمل براہ راست انٹرنیٹ پر دکھایا گیا جبکہ چڑیا گھر میں بڑی تعداد میں لوگوں نے زرافے کی کھال اتارنے اور اس کے گوشت کو ٹکڑے شیروں کو کھلاتے دیکھا۔

چڑیا گھر کے ایک ترجمان سٹینبیک برؤ نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ والدین سے کہا گیا تھا کہ وہ طے کریں کہ آیا ان کے بچوں کو یہ سب ہوتا دیکھنے کی اجازت دینی چاہیے کہ نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’مجھے اس پر فخر ہے کہ ہم نے بچوں کو زرافے کے اعضا کو اچھی طرح سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا جو وہ زرافے کو تصویر میں دیکھ کر نہیں سمجھ سکتے تھے۔‘

چڑیا گھر کے سائنسی امور کے ڈائریکٹر بیگٹ ہولسٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زرافے کو مارنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئی لیکن وہ جانوروں کے انتظامی امور سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے اور چڑیا گھروں کا یہ ذمہ داری پر مبنی کام ہے جس میں وہ جانوروں کی تعداد کو کنٹرول کرتے ہیں تاکہ جانور صحت مند رہیں۔ ان کے مطابق ہر سال کوپن ہیگن کے چڑیا گھر میں 20 سے 30 جانوروں کو ہلاک کیا جاتا ہے۔

برطانیہ کے یارکشائر والڈ لائف پارک، جس میں ایک اضافی نر زرافے کو رکھنے کی جگہ اور سہولیات موجود ہیں، دیگر چڑیا گھروں کی طرح زرافے کو بچانے کی کوششوں میں شامل تھا۔

والڈ لائف پارک کے مطابق ایک جانور کو مارنا افسوسناک ہے۔

ڈنمارک میں جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی اہل کار سٹائن جینسن کا کہنا ہے کہ ماريس کو مارنا کوپن ہیگن چڑیاگھر کا غیر اخلاقی کام ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’چڑیا گھر جس طرح خود کو دکھانا چاہتاہے ویسا نہیں اور یہ ایک غیراخلاقی ادارہ ہے کیونکہ ماریس ان کے لیے صرف ایک بیکار چیز ہے۔ یہ ایک ایسا چڑیا گھر ہے جس نے بہترین متبادل طریقے تلاش کرنے کی بجائے زرافے کو ہلاک کرنا مناسب سمجھا۔‘

تاہم چڑیا گھر کے ڈائریکٹر بیگٹ ہولسٹ کے مطابق زرافے کو اس طریقۂ کار کے تحت منتخب کیا جاتا ہے کہ اس نسل کو بچانے کے لیے بہترین جین آگے منتقل ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زرافے کے پوسٹ مارٹم کو انٹرنیٹ پر براہ راست دکھایا گیا

’آج کل زرافوں میں افزائشِ نسل کا عمل بہت اچھا ہے اور اس وجہ سے ہم بہترین جین کے حامل زرافے کے انتخاب کو یقینی بناتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ماريس کو یارکشائر وائلڈ لائف سمیت دوسرے چڑیا گھروں میں بھیجنے پر غور کیا گیا تھا لیکن کسی بھی چڑیا گھر میں اس کے لیے مناسب جگہ نہیں تھی اور اگر کہیں جگہ ہے بھی تو اسے جینز کے لحاظ سے زیادہ بہترین زرافے کے لیے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماريس کو بچانے کے مہم کو کچھ زیادہ ہی شدت اختیار کر گئی تھی۔

ماريس کو بچانے کی پیشکش کرنے والے ہالینڈ کے والڈلائف پارک کے ڈائریکٹر روبرٹ كرجف کہتے ہیں کہ ’مجھے یقین نہیں آ رہا ہے۔ ہم نے اس کی جان بچانے کی پیشکش کی تھی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔ چڑیا گھروں کو اپنا کام کرنے کا طریقہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں