امریکی فوج میں ’سمارٹ رائفل‘ کا استعمال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سمارٹ رائفل میں ایک ایسا کمپیوٹر نصب کیا گیا ہے جو 16 قسم کی چیزوں کا جائزہ لے سکتا ہے

امریکی فوج نے نشانہ لگانے میں مزید بہتری پیدا کرنے کے لیے ’سمارٹ رائفل‘ کی ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے۔

امریکی فوجی کی خاتون ترجمان نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے ماہرین نے چھ ٹریکنگ رائفلیں حاصل کی ہیں جو اس کے جدید ترین اسلحہ حاصل کرنے کے پروگرام کا حصہ ہے۔

یہ ٹیکنالوجی سمارٹ رائفل استعمال کرنے والے شخص کو اس کے نشانے کے لیے ایک ’ورچوئیل ٹیگ‘ لگانے میں مدد فراہم کرے گی۔

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اگر رائفل کی لبلبی کو دبایا جائے تو وہ صرف اس صورت میں ہی فائر کرے گی جب اسے صحیح سمت میں تانا جائے گا۔

اس ٹیکنالوجی کی مدد سے فائرنگ کرتے وقت لبلبی کے جھٹکے سے بچنے اور حادثاتی فائرنگ جیسے مسائل کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

اس کے علاوہ سمارٹ رائفل میں ایک ایسا کمپیوٹر نصب کیا گیا ہے جو 16 قسم کی چیزوں کا جائزہ لے سکتا ہے جس میں درجۂ حرارت، گولی کی گردش اور ہوا کا رخ شامل ہے۔

امریکی فوج کے ایگزیکٹیو آفیسر لیفٹیننٹ کرنل شان لوکس نے آرمی ٹائمز کو بتایا کہ یہ رائفل سپاہی کو تربیت بھی فراہم کر سکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’نسبتاً مختصر سرمایہ کاری سے ہم نشانے کی درستگی اور مجموعی موثر پن کے امکان کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔‘

دوسری جانب ایک آزاد مبصر کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہر سپاہی کو ماہر نشانے باز نہیں بنا سکتی۔

ایک تھنک ٹینک پیٹر کوئنٹن کا کہنا ہے کہ یہ انقلابی ٹیکنالوجی نہیں ہے لیکن بنیادی طور پر ’لیز ٹیگنگ‘ ہی ہے جس کو زیادہ بڑے اور پیچیدہ اسلحے سے اخذ کر کے چھوٹے ہتھیاوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

امریکی ریاست ٹیکسس میں قائم ٹریکنگ پوائنٹ کمپنی آسٹن کے مطابق یہ رائفل 1,200 گز یا 1.1 کلو میٹر کے فاصلے تک مار کر سکتی ہے۔

عام شہریوں کے لیے اس رائفل کی قیمت دس ہزار سے 27 ہزار امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔