طیاروں میں کھڑکیوں کی جگہ فلیٹ سکرین

تصویر کے کاپی رائٹ spike aerospace
Image caption یہ ایس-512 سپر سونک طیارہ سنہ 2018 تک لانچ ہو جائے گا

سپرسونک طیارے تیار کرنے والی ایک کمپنی نے کہا ہے کہ وہ جہازوں کی دیواروں میں کھڑکیوں کی جگہ سکرین لگانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

طیارے کے باہر لگے ہوئے کیمرے سے لی گئی تصویریں اس سکرین پر نظر آئیں گی۔ مسافر ان تصاویر کو مدھم یا تبدیل کر سکیں گے۔

طیارہ ڈیزائن کرنے والی کمپنی سپائک ایرو سپیس کا کہنا ہے کہ کھڑکیاں ہٹانے سے طیارے کے مرکزی حصے کو ڈیزائن کرنے اور بنانے میں آسانی ہوگی۔

یہ ایس-512 سپر سونک طیارہ سنہ 2018 تک لانچ ہو گا۔

کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بلاگ میں کہا ہے کہ کھڑکیوں سے طیارے کا وزن بڑھ جاتا ہے لیکن فلیٹ سکرین لگانے سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

برطاینہ کی سینٹرل لنکا شائر یونیورسٹی میں ایرو سپیس انجینیئرنگ کے ماہر ڈاکٹر ڈیرن انیسل نے کہا کہ بغیر کھڑکیوں کے جہاز میں سفر کرنا مسافروں کے لیے ایک غیر معمولی تجربہ ہوگا۔

’کوئی قدرتی روشنی نہیں ہوگی، یہ سب مصنوعی ہوگا۔ لیکن سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے یہ سب کچھ کیسے ہوگا؟ اگر کوئی حادثہ ہو جائے اور کیمرے خراب ہو گئے تو آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ طیارہ کس طرف جا رہا ہے اور کہاں اترا ہے؟‘

سپائک ایرو سپیس کمپنی امریکی شہر بوسٹن میں قائم ہے اور اس کے انجینیئروں کی ٹیم کو طیارے ڈیزائن کرنے اور بنانے کا وسیع تجربہ ہے۔

یہ طیارہ بنانے پر آٹھ کروڑ امریکی ڈالر لاگت آئے گی۔ اس جہاز پر 18 مسافر سفر کر سکیں گے جو نیویارک سے لندن تک کا سفر تین سے چار گھنٹے میں طے کریں گے۔ یہ فاصلہ موجودہ دور میں چھ سے سات گھنٹے میں طے کیا جاتا ہے۔

ایریون اور گلف سٹریم جیسی دیگر کمپنیاں بھی اس قسم کے سپر سونک جیٹ طیارے بنانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں