فیس بک نے واٹس ایپ کو 19 ارب ڈالر میں خرید لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فیس بک اور وٹس ایپ کے سودے کی بات پہلی مرتبہ صرف 11 دن پہلے ہوئی تھی

سماجی روابط کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک نے موبائل پر پیغام رسانی کی مقبول ایپلیکیشن وٹس ایپ کو 19 ارب ڈالرز میں خرید لیا ہے۔

وٹس ایپ دور حاضر کے نوجوانوں میں مقبول ایپلیکیشن ہے اور اس کے 45 کروڑ صارف ہیں۔

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اپنے ایک بیان میں وٹس ایپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے ’ناقابل یقین حد تک قابل قدر‘ قرار دیا ہے۔

یہ فیس بک کی اب تک کی سب سے بڑی خریداری ہے۔ اس سے قبل فیس بک کا سب سے بڑا سودا 2012 میں انسٹاگرام کی خریداری تھا جس کے لیے اس نے ایک ارب ڈالر ادا کیے تھے۔

وٹس ایپ موبائل پر مختصر پیغامات کا خرچ بچاتے ہوئے صارف کو انٹرنیٹ کی مدد سے پیغامات بھیجنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس روزانہ دس لاکھ نئے صارف رجسٹر ہو رہے ہیں۔

اس ایپلیکیشن کا ایک مفت ورژن عام استعمال کے لیے دستیاب ہے جبکہ یہ کاروباری ورژن میں صارفین سے ایک ڈالر سالانہ وصول کرتی ہے۔

فیس بک اور وٹس ایپ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت فیس بک چار ارب ڈالر نقد اور 12 ارب ڈالر اپنے حصص کی شکل میں ادا کرے گی جبکہ تین ارب ڈالر حصص کی شکل میں بعد ازاں واٹس ایپ کے بانیوں اور ملازمین کو دیے جائیں گے۔

وٹس ایپ کے بانی جین کوم فیس بک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن بھی بن جائیں گے۔ اس معاہدے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ وہ اس کمپنی کو ’خودمختار‘ طریقے سے چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مارک اور فیس بک سے شراکت کے خیال پر بہت پرجوش ہیں اور اسے ایک اعزاز تصور کرتے ہیں۔‘

وٹس ایپ کے کل ملازمین کی تعداد 50 کے لگ بھگ ہے اور مارک زکربرگ کا کہنا ہے کہ فیس بک اور وٹس ایپ کے سودے کی بات پہلی مرتبہ صرف 11 دن پہلے ہوئی تھی۔

فیس بک کے بانی نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں واٹس ایپ کے صارفین کی تعداد ایک ارب ہو سکتی ہے لیکن انھوں نے اس ایپلیکیشن کے انٹرفیس کو اشتہارات کے لیے پیش کرنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا اور کہا کہ ان کے خیال میں پیغام رسانی کے ایسے نظام میں پیسہ بنانے کے لیے اشتہارات بہترین طریقہ نہیں۔

جب یہ سودا تکمیل کو پہنچ جائے گا تو واٹس ایپ کے بانی جین کوم اور ان کے ساتھی برائن ایکٹن سیلیکون ویلی کے ارب پتی افراد کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں