امریکہ میں پولیو سے ملتے جلتے وائرس کا حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دنیا بھر میں صرف تین ممالک ایسے ہیں جہاں پولیو اب بھی عام ہے جن میں پاکستان، افغانستان اور نائجیریا شامل ہیں

امریکہ میں ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ کیلیفورنیا میں پولیو سے ملتی جلتی ایک بیماری پھیل رہی ہے اور اب تک کم سے کم 20 افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

امریکی اکیڈمی آف نیورولوجی کے ایک اجلاس میں بتایا گیا کہ متاثرہ مریضوں کے دونوں بازو اور دونوں ٹانگیں مفلوج ہوئی ہیں اور یہ علاج سے بھی بہتر نہیں ہو رہے۔

امریکہ پولیو سے پاک ملک ہے لیکن اس سے پولیو سے ملتے جلتے کئی وائرس اعصابی نظام پر حملہ کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی عضو مفلوج ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسا نہیں لگتا کہ یہ پولیو سے ملتا جلتا وائرس وبائی مرض ہے تاہم انہوں نے اسے ایک نایاب انفیکشن قرار دیا۔

پولیو بچوں کو لاحق ہونے والا خطرناک انفیکشن ہے۔ یہ وائرس تیزی سے اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے اور 200 میں سے ایک مریض کو مفلوج کر دیتا ہے۔ اگر یہ پھیپھڑوں کو کام کرنے سے روک دے تو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

دنیا بھر میں صرف تین ممالک ایسے ہیں جہاں پولیو اب بھی عام ہے جن میں پاکستان، افغانستان اور نائجیریا شامل ہیں۔

امریکہ میں سامنے آنے والے پولیو سے ملتے جلتے وائرس سے گذشتہ 18 ماہ کے دوران 20 افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں بیشتر بچے ہیں۔

پانچ کیسوں کے تفصیلی جائزے کے بعد پتہ چلا ہے کہ اس کے لیے enterovirus-68 نامی وائرس ذمہ دار ہے۔

ان تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین دی گئی تھی۔

اس میں ابتدائی طور پر کسی ایک ہاتھ یا ٹانگ میں حرکت کم ہو جاتی ہے اور باقی کے تینوں اعضا بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی میں اعصابی نظام کی ماہر ڈاکٹرامینوئل وابینٹ نے بی بی سی کو بتایا: ’نئے وائرس کے باعث سامنے آنے والے کیسوں میں زیادہ تیزی نہیں دیکھی گئی اس لیے ہم نہیں سمجھتے کہ یہ کوئی وبا ہے۔

’لیکن بری خبر یہ ہے کہ جو لوگ متاثر ہوئے ہیں ان کے تمام تر علاج کے باوجود ان میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔‘

یہ تمام کیس سو میل کے دائرے کے اندر سامنے آئے ہیں اس لیے محققین کا کہنا ہے کہ یہ کسی گروہ میں پھوٹنے والے بیماری نہیں ہے۔

تاہم کئی لوگ خطرناک علامتوں کے ظاہر ہوئے بغیر بھی اس نئے وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں جیسے کہ پولیو میں ہوتا ہے۔

سٹین فورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ایک دوسری محقق ڈاکٹر کیتھ وین ہیرن کا کہنا ہے کہ ’ان کیسوں سے پولیو سے ملتی جلتی بیماری کے پھیلاؤ کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہمیں اس بات پر زور دینا ہو گا کے یہ بیماری بہت بہت نایاب ہے۔ اگر کوئی والدین اپنے بچے میں فالج کے آثار دیکھتے ہیں تو انہیں بچے کو فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔‘

اسی بارے میں