صحرا میں وھیل کا قدیم ترین قبرستان

تصویر کے کاپی رائٹ Instituto Smithsonian
Image caption سرو بلینا کے مقام پر اب بھی سینکڑوں فوسلز موجود ہیں جن کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے

گذشتہ برسوں کی سب سے حیران کن دریافت لاکھوں برس پرانے وھیل مچھلیوں کے ایک قبرستان کی شکل میں جنوبی امریکہ کے ملک چلی میں سامنے آئی ہے۔

پین امیریکن ہائی وے کے کنارے دریافت ہونے والے اس قبرستان کے بعد سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ اب یہ بتانے کے قابل ہوگئے ہیں کہ وھیل مچھلیوں کی یہ باقیات پچاس لاکھ سال پہلے اس خاص مقام پر کس طرح جمع ہوئیں۔

سائنسی جریدے رائل سوسائٹی جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ باقیات چار مختلف اوقات میں یہاں اس وقت جمع ہوئیں جب سمندر نے مردہ وھیل مچھلیوں کو دھکیل کر ساحل پر پھینک دیا۔

چلی میں واقع اس مقام سے ملنے والی باقیات سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے یہ تمام وھیل مچھلیاں زہریلی کائی کھا لینے سے ہلاک ہوئیں۔ جوں جوں یہ مچھلیاں مرتی گئیں سمندر کی موجیں ان کے بے جان جسموں کو ساحل کی طرف دھکیلتی رہیں اور آخر کار یہ مچھلیاں ریت کے نیچے دب گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Adam Metallo Instituto Smithsonian
Image caption لگتا ہے کہ یہ ساری مچھلیں مرتے وقت ایک ہی انداز میں لیٹی ہوئی تھیں

سائنسی حلقوں میں ہر کوئی جانتا تھا کہ چلی کے ایٹاکاما صحرا میں وھیل مچھلیوں کی بہت سی باقیات دفن ہیں۔ ٹیلوں کے درمیان ریت میں دفن مچھلیوں کی نوکدار ہڈیاں ایک عرصے سے دیکھی جا سکتی تھیں، اور اسی وجہ سے اس مقام کو لوگوں نے ’وھیلوں کی پہاڑی‘ کا نام دیا ہوا تھا۔

لیکن سائنس دانوں کو اس مقام کا باقاعدہ سائنسی مطالعہ کرنے کا موقع صرف اس وقت ملا جب پین امیریکن ہائی وے کو چوڑا کرنے کی غرض سے اس بڑی سڑک کے ارد گرد کھدائی کا کام شروع ہوا۔

سائنسدانوں کو مچھلیوں کے اس عظیم قبرستان سے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے صرف دو ہفتے دیے گئے تھے کیونکہ ہائی وے کی تعمیر میں مصروف کمپنی نے انھیں بتا دیا تھا کہ دو ہفتوں کے بعد ان کی مشینیں واپس آجائیں گی اور نئی سڑک کی تعمیر اپنے مقررہ وقت پر ہو گی۔

سائنس دانوں نے اس مختصر عرصے میں جس قدر ممکن تھا مچھلیوں کی باقیات کا اس مقام پر مطالعہ کیا اور لیبارٹری میں مختلف ٹیسٹ کرنے کے لیے ہڈیاں اور مچھلیوں کے دانت وغیرہ جمع کر لیے۔

چھوٹی موٹی ہڈیوں کے علاوہ اس مقام سے ریت میں دبے ہوئے وھیل مچھلیوں کے 40 سے زیادہ مکمل فوسلز (ڈھانچے) بھی ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے یہ اپنے قد وقامت میں آج کل سمندر میں پائی جانے والی نیلی، فِن اور مِنک اقسام کی وھیلوں جیسی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Instituto Smithsonian
Image caption شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ان مچھلیوں کی موت ایک ہی وقت میں کسی ایک ہی وجہ سے ہوئی

شواہد اکٹھے کرنے والی ٹیم نے دیکھا کہ نہ صرف مچھلیوں کے ڈھانچے اپنی مکمل شکل میں موجود تھے، بلکہ ایسا لگتا تھا کہ یہ ساری مچھلیاں مرتے وقت ایک ہی انداز میں لیٹی ہوئی تھیں۔ باقیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرتے وقت مچھلیوں کی اکثریت پیٹ کے بل لیٹی ہوئی تھی اور وہ ایک ہی سمت میں دیکھ رہی تھیں۔

ان تمام شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان مچھلیوں کی موت ایک ہی وقت میں کسی ایک ہی وجہ سے ہوئی، لیکن وھیل کے ڈھانچوں کا ریت کی مخلتف تہوں میں پڑے ہونے سے یہ ْبھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان تمام کی تمام مچھلیوں کی موت ایک ہی وقت میں نہیں ہوئی بلکہ کئی ہزار سال پر پھیلے ہوئے عرصے میں ہوئی۔

وھیل مچھلیوں کے علاوہ اس مقام سے کئی دیگر آبی جانوروں کی باقیات بھی دریافت ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں