کیپلر کی مدد سے 715 نئے سیارے دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ماہرین فلکیات نے مئی میں کیپلر کی مدد دو ایسے سیارے دریافت کیے جو زمین سے سب سے زیادہ مماثلت رکھتے ہیں

ماہرین فلکیات نے خلائی دوربین کیپلر سے حاصل کردہ معلومات کے تجزیے سے ہمارے نظام شمسی سے باہر 715 نئے سیاروں کی نشاندہی کی ہے۔

تقریباً 20 سال پہلے نظام شمسی سے باہر پہلے سیارے کی دریافت سے اب تک ایک ہزار نئی دنیائیں دریافت ہو چکی ہیں۔

کیپلر کی مدد سے دریافت ہونے والے سیاروں میں سے 95 فیصد سیارے ہمارے نظام شمسی کے آٹھویں سیارے نیپچون سے چھوٹے لیکن زمین کے حجم سے چار گنا بڑے ہیں۔

دریافت ہونے والے سیاروں میں سے چار زمین کے حجم سے ڈھائی گنا سے کم بڑے ہیں اور یہ زندگی کے لیے موزوں مداروں میں اپنے سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں کے درجۂ حرارت میں پانی مائع شکل میں سیارے پر اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے۔

ان سیاروں کے موسم کے بارے میں ابھی اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے کیونکہ یہ سینکڑوں نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں اور اتنا دور ہونے کی وجہ سے تفصیلی تحقیقات ممکن نہیں ہے۔

60 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کی جانے والی کیپلر خلائی دوربین 2009 سے ہماری کہکشاں میں زمین جیسے سیاروں کے کھوج میں مصروف تھی اور گذشتہ سال اس میں خرابی آنے سے پہلے اس نے ہزاروں ممکنہ سیاروں کا کھوج لگا لیا تھا۔

دوربین میں جمع ان معلومات کا تجزیہ کر کے نئے سیاروں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا میں فلکی طبعیات کے شعبے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ ایک وقت میں دریافت کیے جانے والے سیاروں کی سب سے بڑی تعداد ہے، سیاروں کے نظام میں ایک ستارے کے گرد کئی سیاروں کا گردش کرنا ہمارے نظام شمسی میں مشترک یا ایک جسیا ہے۔اس کے علاوہ ہماری کہکشاں میں زمین سے بڑے اور نیپچون کے حجم کے قریب کے سیارے اکثریت میں ہیں۔‘

گذشتہ سال نومبر میں کیپلر سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر کہا گیا تھا کہ قابلِ زندگی حصے میں ہمارح سورج جیسے پانچ ستاروں میں ایک کے گرد زمین کے جحجم کا ایک سیارہ گردش کرتا ہے۔

اسی بارے میں