بچوں کی صحت کا تعلق باپ کی عمر سے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لاکھوں افراد پر مشتمل تحقیق کے نتیجے میں معلوم ہوا ہے کہ سکول جانے والی عمر کے بچوں میں کئی مسائل اور بیماریوں کا تعلق دیر سے باپ بننے کے ساتھ ہے۔

ان بیماریوں میں اوٹِزم، بائی پولر بیماری، شیزوفرینیا، خودکشی کی کوشش اور منشیات کا استعمال جیسی بیماریاں شامل ہیں۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس کی وجہ تقلیب شدہ جین ہیں۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ بوڑھے باپ کے فوائد نقصانات کی نسبت زیادہ ہیں۔

امریکہ کی انڈیانا یونیورسٹی اور سویڈن کے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ میں کی گئی تحقیق کو اس معاملے پر کی گئی سب سے بڑی اور بہترین تحقیق قرار دیا گیا ہے۔

محققین نے 26 لاکھ افراد کا جائزہ لیا اور ان کے بچوں کی پیدائش کے درمیان فرق کو بھی مدِ نظر رکھا۔

اس تحقیق میں 45 سالہ باپ کا 24 سالہ باپ کے ساتھ موازنہ کیا گیا جس سے پتہ چلا کہ زیادہ عمر والے باپوں کے بچوں میں:

  • اوٹزم کا خدشہ تین گنا زیادہ
  • ADHD کا خطرہ 13 گنا زیادہ
  • دماغی خلل کا خطرہ دو گنا
  • بائی پولر بیماری کا امکان 25 گنا زیادہ
  • خودکشی کا رجحان یا منشیات کا رجحان ڈھائی گنا زیادہ
  • سکول میں سطحی نتائج

اس بات کا کوئی نقطۂ آغاز نہیں تھا کہ خطرہ کہاں سے شروع ہوتا ہے، مگر عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ خطرے میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ لاکھوں افراد میں اس خطرے کا بہت کم حصہ سامنے آنا اس بات کے امکان کو بڑھا دیتا ہے کہ اس طرح کے واقعات بڑھ جائیں گے۔

ایک محقق ڈاکٹر برائن ڈی اونفریو کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی نتائج سے دھچکہ لگا جس میں پہلے کی نسبت زیادہ خطرہ ظاہر کیا گیا تھا۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس تحقیق کے نتائج یہ ہیں کہ بچے دیر سے پیدا کرنے کا معاملہ بچوں میں بعد میں دماغی اور تعلیمی مسائل کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ تحقیق پہلے کی گئی تحقیقات میں اضافہ کر رہی ہے جن میں تجویز دی گئی کہ خاندان، ڈاکٹر اور معاشرہ مل کر بچے دیر سے پیدا کرنے کے فیصلے کے حق اور مخالفت میں بحث کرنے کے بعد فیصلہ کریں۔‘

ایک مرد کی زندگی کے دوران مادۂ تولید مسلسل تیار ہوتا رہتا ہے اور جیسے جیسے اس کی تیاری کے نظام کی عمر بڑھتی جاتی ہے، ویسے ہی خرابیوں میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ عمر رسیدہ افراد کے نطفے میں زیادہ خرابیوں کا خدشہ ہوتا ہے جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر جیمزمکابے انسٹیٹیوٹ آف سائکیٹری میں لیکچرار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’میں یہ بات بہت زور دے کر کہوں گا کہ مردوں کو ایک تحقیق یا تحقیقات کے مشترکہ نتائج کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ انھیں بچے پیدا کرنے چاہیں اور کب کرنے چاہییں۔‘

انھوں نے کہا خطرات کم ہیں اور اس میں دو گنا یا تین گنا اضافہ بھی بہت کم تعداد میں لوگوں پر اثر انداز ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’عمر رسیدہ والد کے فوائد بھی ہیں، مثلاً مستحکم تعلقات، بہتر آمدنی، وغیرہ۔ اور یہ فوائد بچوں کو لاحق خطرات سے بڑھ کر ہیں۔‘

اسی بارے میں