ناسا کا ’یوروپا‘ پر خلائی جہاز بھیجنے کا ارادہ

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption ماضی میں ناسا کے خلائی جہاز ’یوروپا‘ کے قریب سے گزر چکے ہیں

امریکی خلائی ادارے ناسا نے نظامِ شمسی میں شامل سیارے مشتری کے چاند ’یوروپا‘ پر ایک خلائی مشن روانہ کرنے کے منصوبے کا خیال ظاہر کیا ہے۔

ماہرینِ فلکیات کا خیال ہے کہ وہاں کسی قسم کی زندگی کے آثار مل سکتے ہیں۔

ناسا نے اپنے 2015 کے بجٹ میں یوروپا پر کسی قسم کے مشن کی منصوبہ بندی کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں اور اس سلسلے میں کوئی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔

تاہم امریکی خلائی ادارے کی چیف فنانشل افسر الزبتھ رابنسن نے منگل کو کہا ہے کہ یہ مشن 2020 کی دہائی کے وسط میں بھیجا جائے گا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی ابھی یہ نہیں جانتی کہ یہ مشن کتنا بڑا ہوگا اور اس پر کتنا خرچ آئے گا۔

انھوں نے بتایا کہ اس مشن کا بنیادی مقصد یوروپا کے برفانی سطح کے نیچے موجود عجیب مائع پانی میں زندگی کی تلاش ہوگا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق رابنسن کا کہنا تھا کہ مشتری کے اردگرد شدید تابکار ماحول اور زمین سے اس کی دوری اس مشن کی مشکلات میں شامل ہیں۔

خیال رہے کہ ناسا نے جب 1989 میں مشتری کی جانب اپنا ’گلیلیو‘ نامی خلائی جہاز روانہ کیا تھا تو اسے نظام شمسی کے پانچویں سیارے تک پہنچنے میں چھ برس لگے تھے۔

ماضی میں ناسا کے خلائی جہاز خصوصاً گلیلیو ’یوروپا‘ کے قریب سے گزر چکے ہیں لیکن یہ چاند ان کی توجہ کا مرکز نہیں رہا۔

ماہرینِ فلکیات ایک عرصے سے اس پر خلائی جہاز بھیجنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ماہرِ فلکیات لوری لیشن نے کہا ہے کہ ’یہ ہمارے نظامِ شمسی کی انتہائی دلچسپ چیز کی جانب خلائی جہاز بھیجنے کی دلیرانہ کوشش ہو سکتی ہے۔‘

ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ فلکیات اوی لیوب کا بھی کہنا ہے کہ یوروپا پر مشن بھیجنا مریخ پر بھیجے گئے مشن سے بھی زیادہ دلچسپ ثابت ہو سکتا ہے۔ ’وہاں پانی میں شاید مچھلیاں بھی مل جائیں۔‘

کہا جاتا ہے کہ نظام شمسی میں دوسری جگہوں کے مقابلے پر مشتری کے اس چاند میں زندگی پائے جانے کے زیادہ امکانات ہیں کیونکہ وہاں بڑی مقدار میں پانی موجود ہے اور گذشتہ برس سائنسدانوں کو یوروپا پر موجود برف سے مائع پانی کے بخارات کے اخراج کے بارے میں بھی پتا چلا تھا۔

اسی بارے میں