ایشیا میں سریلی چڑیا کی نئی نسل دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پہلے اس چتکبری چڑیا کو اس لیے نظر انداز کیا گیا تھا کہ یہ یورپ کی رین اور جنگلوں کی رین بیبلر سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے

ایک ایسے وقت میں جب پرندوں کی بہت سی نسلیں معدوم ہو رہی ہیں، سائنس دانوں نے چڑیا کی ایک مخصوص نئی نسل دریافت کر لی ہے۔

یہ چتکبری گاتی چڑیا ایشیا میں ملی ہے۔

پاسیریدا نسل کی چڑیا کے بارے میں تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے اس نسل کی چڑیا کی دس مختلف شاخوں کی نشاندہی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نئی دریافت کی جانے والی چڑیا لمبے پنجوں اور انگلیوں والی چڑیا کی اس نسل سے مختلف ہے جس پر وہ تحقیق کر رہے تھے۔ یہ یورپ کی مغنی چڑیا رین یا جنگلوں میں اونچے سروں میں گانے والی رین بیبلر چڑیا سے مختلف ہے اور اپنی نوعیت کی واحد نسل ہے۔

ماہر طیور کا کہنا ہے کہ اس نئی قسم کی چڑیا کو ’ایلاچورا‘ کہا جانا چاہیے۔

اس چڑیا کی دریافت کے بارے میں تحقیق رائل سوسائٹی کے جریدے ’بائیولوجی لیٹرز‘ میں شائع ہوئي ہے۔

سویڈن کی زرعی سائنس کی یونیورسٹی کے پروفیسر پر آلسٹروم نے کہا ہے کہ ’یہ لمبے پنجوں والی نسل کی واحد نمائندہ قسم ہے اور لمبے پنجوں والی چڑیا دنیا بھر میں چڑیوں کی ساڑھے دس ہزار اقسام میں 36 فی صد کے ساتھ سب سے بڑا گروہ بناتی ہیں۔‘

انھوں نے بیجنگ کی چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے سائنس دانوں کے ساتھ مل کر یہ تحقیق کی ہے۔

’ایلاچورا فورموسا‘ نامی یہ چڑیا پہلے دوسرے نام سے جانی جاتی تھی اور یہ ایک چھوٹی سی مغنی چڑیا ہے جو مشرقی ہمالیائی علاقوں اور جنوب مشرقی چین کے درمیان پائي جاتی ہے۔

پروفیسر آلسٹروم نے اس چڑیا کی خصوصیت بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہ چڑیا بہت ہی پوشیدہ رہتی ہے اس کا مشاہدہ کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ بہت ہی گھنے نیم استوائی پہاڑی جنگلوں میں چھپ کر رہتی ہے۔‘

بہر حال انھوں نے بتایا کہ ’عمل تولید کے موسم میں جب اس نسل سے تعلق رکھنے والی نر اپنے مخصوص اونچے سروں میں گاتے ہیں تو بعض اوقات یہ چڑیا کسی جھاڑی میں کسی شاخ پر بیٹھی نظر آتی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’اس کے گیت اور سر دوسری کسی دوسری ایشیائی چڑیا سے نہیں ملتے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پہلے اس چتکبری چڑیا کو اس لیے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے کہ یہ یورپ کی رین اور جنگلوں کی رین بیبلر سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔‘

انھوں نے یہ واضح کیا کہ ’یہ مشابہت یا تو محض اتفاقیہ ہے یا پھر ایک ہی قسم کے ماحول میں نشو و نما پانے کے نتیجے میں در آئی ہے۔‘

سائنسدانوں نے اس چڑیا کے ڈی این اے کی جانچ کی اور پھر ان کی نسل اور خاندان کا تعین کیا۔

اسی بارے میں