ترقی کا راستہ بڑے بڑے ڈیم؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محققین کہتے ہیں کہ بڑے ڈیموں سے توقع کیے جانے والے فوائد حاصل نہیں ہوتے

آکسفررڈ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بڑے ڈیموں میں سرمایہ کاری پُرخطر ہوتی ہے کیونکہ اس میں اکثر تخمینے سے تجاوز ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں ابھرتی ہویی معیشتیں قرضے میں ڈوب جاتی ہیں اور بڑے ڈیموں سے متوقع فوائد بھی حاصل نہیں ہوتے۔ کیا بڑے ڈیم بھی فائدہ مند ہوتے ہیں۔؟

امریکہ میں ہوور ڈیم کی ساٹھ منزلوں جتنی اونچی دیوار پر کھڑے ہو کر نیچے دیکھنے سے انسان کو ایک مرتبہ خوف ضرور آتا ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر میں اتنا زیادہ کنکریٹ استعمال ہوا تھا کہ اس سے نیو یارک سے سانفرانسِسکو تک سڑک بن سکتی تھی۔ انسانی تعمیر کے اس ناقابلِ فراموش معرکے کو قدرت پر انسانی قبضے کی علامت اور بیسویں صدی کی انجنیئرنگ کا معجزہ مانا جاتا ہے۔

1930 کی دہائی میں امریکی معیشت کو بدحالی سے نکالنے میں اس ڈیم کا کردار مانا جاتا ہے کیونکہ اس نے سیلاب کا باعث بننے والے کولوراڈو دریا پر قابو پایا اور بنجر جنوب مغربی ریاستوں کے لیے سستی بجلی پیدا کرنا شروع کی۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ڈیم وقت سے دو سال قبل اور بجٹ سے پندرہ ملین ڈالر کم مالیت میں تیار ہوگیا۔

لیکن بڑے ڈیموں کے ناقدین کے لیے ہوور ڈیم ایک غیر معمولی بات ہے۔ آکسفرڈ یونیورسٹی کے محققین نے 1934 اور 2007 کے درمیان بنائے گئے 245 بڑے ڈیموں کا جائزہ لیا۔ بڑے ڈیموں سے مراد وہ ڈیم ہیں جن کی دیوار 15 فٹ سے اونچی ہو۔ محققین کو معلوم ہوا کہ بڑے ڈیم اپنے بجٹ سے اوسطًا 96 فیصد زیادہ اخراجات لے جاتے ہیں اور اوسطًا ان کی تعمیر پر آ،ھ سال دو ماہ کا عرصہ لگتا ہےں۔ برازیل کا اٹائےپو ڈیم اپنے بجٹ سے 240 فیصد زیادہ لاگت میں تعمیر ہوا۔

محققین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ڈیم اقتصادی طور پر مفید نہیں ہوتے ہیں۔

دو دہائیوں تک خاموشی کے بعد اب ایک مرتبہ پھر کہا جا رہا ہے کہ بڑے ڈیم خوشحالی کا راستہ ہیں۔

چین سے برازیل، پاکستان سے ایتھوپیا تک بہت سے ملک انھیں بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

2010 سے 2040 تک دنیا کے بجلی کے استعمال میں 56 فیصد اضافے کی توقع کی جا رہی ہے اور پن بجلی کو ایک سستا راستہ سمجھا جاتا ہے۔

انٹرنیشنل کمیشن آن ڈیمز کے مطابق دنیا میں 90 فیصد رنیوئیبل بجلی ڈیموں سے آتی ہے۔

برٹش ڈیم سوسائٹی کے اینڈی ہیوز کامیابی سے پن بجلی کا استعمال کرنے والوں کے لیے لاؤس اور ویتنام کی مثال دیتے ہیں۔ ’وہ ڈیم بنا رہے ہیں، پن بجلی پیدا کر رہے ہیں اور دیگر ممالک کو برآمد کر رہے ہیں، چنانچہ یہ ان کے لیے بڑے ڈیم کیش کراپ ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برازیل کے 14.4 بلین ڈالر کی لاگت سے بنایا جا رہا بل مونتو ڈیم اصل میں 27.4 بلین ڈالر میں بن سکے گا: بینٹ فلیب جرگ

آکسفرڈ یونیورسٹی کے محققین کے سربراہ بینٹ فلیب جرگ کہتے ہیں کہ ڈیم کاربن کے حوالے سے نیوٹرل نہیں اور نہ ہی گرین ہاؤس گیسز کے حوالے سے نیوٹرل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں درکار سیمنٹ بنانے سے ماحول کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔‘

ان کا موقف ہے کہ زیرِ آب درختوں سے میتھین گیس بنتی ہے جو کہ ماحول کے لیے کاربن ڈائی آکسائڈ سے 20 گنا زیادہ نقصان دے ہے۔

مگر ان کا اعتراض ڈیموں پر نہیں بلکہ بہت بڑے ڈیموں پر ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم پن بجلی کے مقابلے میں تیل سے بننے والی بجلی کے بارے میں بحث نہیں کرتے۔ ہم چاہیں گے کہ بحث بڑے کے مقابلے میں چھوٹے ڈیموں کے بارے میں کی جائے۔

دوسری جانب انٹرنیشنل ریورز نامی ماحولیاتی تنظیم کے پیٹر بوشارڈ کہتے ہیں کہ موسمی تبدیلی کی وجہ سے موسم کے حالات کی پیش گوئی نہیں کی سکتی۔ ’اسی لیے اگر آپ کا مکمل انحصار ایک بڑے ڈیم پر ہو تو آپ ایک خطرہ مول لے رہے ہیں کیونکہ آپ کو نہیں معلوم کہ بارشیں کتنی ہوں گی۔‘

بینٹ فلیب جرگ کہتے ہیں کہ ان کی توقع ہے کہ برازیل میں 14.4 بلین ڈالر کی لاگت سے بنایا جا رہا بل مونتو ڈیم اصل میں 27.4 بلین ڈالر میں بن سکے گا اور اس قیمت میں اس ڈیم کے فائدے مہنگے پڑیں گے اور ملک قرضے میں ڈوب جائے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’چلو برازیل کی معیشت تو مضبوط ہے مگر بہت سی ابھرتی معیشتوں کے لیے بڑے ڈیم ایک نقصاندہ معاملہ ہے۔‘

اسی بارے میں