آسمانی بجلی گرنے سے جانی نقصان میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سائسندانوں کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر درجۂ حرارت بڑھنے سے آسمانی بجلی گرنے کے وقعات میں مزید اضافہ ہوگا

ماہرین کا خیال ہے کہ ترقی پزیر ممالک میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات اور اس سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والا جانی نقصان دیگر موسمیاتی آفتوں جیسےسیلاب، تودے گرنے اور خشک سالی سے زیادہ ہوگا۔

یوگانڈا کے جہاں پر آسمانی بجلی گرنے کے واقعات عام ہیں، محکمۂ موسمیات کے کمیشنر مائیکل نکالیوبو نے کہا کہ’ماضی کی نسبت آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں کسی حد تک اضافہ ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’میں یہ اس بنیاد پر نہیں کہہ رہا کہ اس پر کوئی تحقیق ہوئی ہے بلکہ یہ میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ’اس میں سلانہ اضافہ ہو رہا ہے جو اب وہوا میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔‘

جنوبی افریقہ میں بھی حکام کے مطابق آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا میں بھی ماہرین کا خیال ہے کہ آسمانی بجلی گرنے کے حادثات اور اس سے ہونے والے جانی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ملائیشیا میں آسمانی بجلی سے تحفظ فراہم کرنے کے ماہر ہاتونو زین العابدین نے آسمانی بجلی گرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’ یہ خطے میں ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’آسمانی بجلی کے گرنے کے حادثات اور اس میں ہونے والے جانی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ خطے میں بشمول کمبوڈیا، ویتنام اور تھائی لینڈ کے اکثر ممالک میں اس کے لیے ماہرین نہیں ہیں جس کی وجہ سے یہ مسئلہ جوں کا توں رہ جاتا ہے۔‘

جنوبی ایشیا کے ماہرین نے بھی آسمانی بجلی کے حادثات میں اضافے کے رحجان کو دیکھا ہے۔

بنگلہ دیش میں محکمۂ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر شمس الدین احمد نے کہا کہ’گذشتہ چند سالوں کے دوران ہم نے آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا۔‘

برازیل کے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار سپیس ریسرچ کے سائنسدان آسمار پینٹو جونیئر نے کہا کہ برازیل اور لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات اور اس سے ہونے والے جانی نقصان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بعض سائسندانوں کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر درجۂ حرارت بڑھنے سے آسمانی بجلی گرنے کے وقعات میں مزید اضافہ ہوگا۔

تل ابیب یونیورسٹی میں آسمانی بجلی اور اب و ہوا پر تحقیق کرنے والے پرفیسر کولن پرائس کہتے ہیں کہ ماحولیات کے ماڈلز سے پتہ چلتا ہے کہ ایک درجہ حرارت بڑھنے سے آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں تقریباً دس فیصد اضافہ ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آسمانی بجلی گرنے کے زیادہ تر واقعات سنٹرل افریقن ریپبلک، جمہوریہ کانگو اور جنوبی امریکہ کے ایمیزون کے علاقے، انڈونیشیا اور برونائی کے جزائر جیسے ترقی پزیر ممالک میں ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی کل تعدا کو اگر جمع کیا جائے تو یہ کسی دوسری قدرتی آفت میں جانی نقصان سے زیادہ ہوگا۔

فن لینڈ کی ایک کمپنی کے لیے کام کرنے والے ماہرِ موسمیات ران ہولے نے کہا کہ افریقہ میں آسمانی بجلی گرنے سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔

لیکن سارے سائنسدان اس سے اتفاق نہیں کرتے اور واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ ہالزورتھ نے جو ورلڈ وائڈ لائٹننگ لوکیشن نیٹ ورک کے سربراہ ہے، کہا کہ’میں نے نہیں دیکھا کہ آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والے جانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہ ’ہم نے دیکھا کہ گذشتہ چند سالوں میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں استحکام آیا ہے۔‘

اسی بارے میں