ایڈ ہوبن: 98 یورپی بچوں کا ایک ہی باپ

Image caption ایڈ اپنے سپرم ’روایتی طریقے‘ سے یعنی جنسی عمل کے ذریعے فراہم کرتے ہیں

شمال مغربی جرمنی کے اس فارم ہاؤس میں ہالینڈ سے تعلق رکھنے والا ایک فربہ جسم شخص پہلی مرتبہ اپنی بیٹی سے ملنے کے لیے آیا ہے۔

اس شخص کا نام ایڈ ہوبن ہے اور چھ ہفتے کی اس بچی مڈیٹا کو گود میں لیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی 98ویں اولاد ہے۔

ایڈ ہوبن ’خیرات میں مادۂ تولید‘ فراہم کرنے والے شخص ہیں۔ وہ زنانہ ہم جنس پرست جوڑوں اور بانجھ پن کے مسائل سے دوچار عام جوڑوں کو اولاد پیدا کرنے کی خدمات مفت فراہم کرتے ہیں۔

انھوں نے اس کام کا آغاز سنہ 2002 میں ایک ’سپرم بینک‘ کو اپنا مادۂ تولید عطیہ کر کے کیا لیکن ان کے اس عمل کو اس وقت دھچکا لگا جب ہالینڈ نے دیگر یورپی ممالک اور کینیڈا کی طرح گمنام ’سپرم ڈونیشن‘ پر پابندی لگا دی۔

اس پابندی کے بعد ایڈ نے اپنی خدمات مفت فراہم کرنے کے لیے انٹرنیٹ کی مدد لی۔

اب وہ اپنے سپرم ’روایتی طریقے‘ سے یعنی جنسی عمل کے ذریعے فراہم کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’اس صورت میں حاملہ ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ شاید سوچتے ہوں کہ میں بنا کسی ذمہ داری کے جنسی عمل کر رہا ہوں لیکن عموماً میں ہی وہ فرد ہوتا ہوں جس سے مشکل میں پڑے ہوئے لوگ بات کر پاتے ہیں۔‘

اس سوال پر کہ انھیں یہ راہ اپنانے پر کیا چیز ابھارتی ہے ایڈ کا کہنا تھا کہ ’حوصلہ دینے والی چیز وہ امید ہے کہ ایک نئی زندگی کا جنم ہوگا، جسے چاہا جائے گا اور اس کا خیال رکھا جائے گا۔‘

مڈیٹا کی والدہ کیٹی ایک 28 سالہ نرس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں اکیلی ہوں۔ میں طویل عرصے سے ایک بچہ چاہتی تھی لیکن مجھے کبھی صحیح شخص نہیں ملا۔ اس لیے چھ برس بعد میں نے ایڈ جیسے کسی فرد کی تلاش شروع کی۔‘

اس سوال پر کیا بچہ پانے کے لیے ایک انجان شخص سے جنسی تعلق قائم کرنا مشکل نہیں تھا؟ کیٹی نے کہا کہ ’ہمیں پہلے ایک دوسرے کو جاننے کا موقع ملا اس لیے یہ مشکل نہیں ہوئی۔‘

Image caption ایڈ ہوبن کو امید ہے کہ ایک دن انھیں ایسی خاتون ملے گی جو ان کے ساتھ رہنا اور ان کے بچوں کی ماں بننا چاہے گی

کیٹی کسی گمنام فرد کا سپرم استعمال کرنے کی بجائے چاہتی تھیں کہ اس مرد کو جانیں جو ان کے بچے کا والد ہوگا: ’میں چاہتی تھی کہ جب وہ(بچہ) مجھ سے سوال کرنے لگے تو میرے پاس جواب موجود ہو۔‘

کیٹی کو یہ بھی امید ہے کہ ایڈ ان کی بیٹی کی زندگی میں بھی ایک کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے خیال میں وہ سال میں ایک دو بار مل بھی سکتے ہیں۔

ہالینڈ کے شہر ماستریخت میں اپنے فلیٹ میں ایڈ ہوبن نے مجھے ایسے کچھ مگ دکھائے جو ہم جنس پرست زنانہ جوڑوں کے ان بچوں نے ایڈ کے لیے بنائے جن کے والد وہ ہیں۔

ایڈ کے پاس ان بچوں کی اتنی تصاویر ہیں کہ ان کے لیے انھیں ڈیجیٹل فریم خریدنا پڑا جس میں 89 بچوں کی تصاویر کا سلائیڈ شو چلتا رہتا ہے۔

انھوں نے اپنی ان اولادوں کی ایک فہرست بھی تیار کی ہے تاکہ مستقبل میں ان کے آپس میں شادی کے امکانات کی صورت میں صورتحال واضح ہو سکے۔

’اگر مستقبل میں میرے بچے کسی ایسے فرد سے ملتے ہیں جو اپنے باپ کے بارے میں نہیں جانتے تو وہ اس فہرست سے مدد لے سکتے ہیں۔‘

اس فہرست میں ایک برطانوی جوڑے کی اولاد کا نام بھی شامل ہونے والا ہے جو برس ہا برس تک امریکہ اور برطانیہ کے کلینکس کی خاک چھاننے کے بعد ایڈ تک پہنچے تھے۔

’وہ آٹھ دن ٹھہرے اور اس دوران میں نے چار مرتبہ خاتون سے ہم بستری کی اور دس برس کے بعد وہ پہلی مرتبہ حاملہ ہو گئی۔‘

اس سوال پر کہ جب پورے یورپ میں ان کے بچوں کی مائیں موجود ہیں وہ خود کو مالی امداد کے دعوؤں سے کیسے محفوظ رکھتے ہیں، ایڈ نے بتایا کہ وہ ان جوڑوں سے باقاعدہ معاہدے کرتے ہیں لیکن اب جبکہ ان کے وکیل نے انھیں کہا ہے کہ یہ معاہدے حتمی ضمانت نہیں تو اب ان کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ جوڑے وعدہ خلافی نہ کریں۔

ایڈ ہوبن کو امید ہے کہ ایک دن انھیں ایسی خاتون ملے گی جو ان کے ساتھ رہنا اور ان کے بچوں کی ماں بننا چاہے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا ہونے پر کیا ایڈ کی یہ سرگرمیاں جاری رہیں گی؟

ان کے مطابق وہ یہ کام جاری رکھیں گے لیکن ہو سکتا ہے کہ اس میں کمی آ جائے۔’ مثلاً ایسی خواتین جن کے اپنے ایک یا دو بچے ہوں اور وہ ان کے بہن بھائی کی تلاش میں ہوں۔‘

ایڈ اپنی 98ویں اولاد کے لیے تحائف بھی لائے اور جب ان سے پوچھا گیا کہ اپنی سوویں اولاد کی پیدائش پر وہ کیا الگ کرنا چاہیں گے، تو ان کا کہنا تھا کہ میں عموماً شراب نہیں پیتا لیکن ہو سکتا ہے میں اس موقع پر ایسا کروں۔

اسی بارے میں