مصنوعی انسان اعضا اور جدید ٹیکنالوجی

Image caption ایڈريانا ہیسلیٹ ڈیوس کو بوسٹن میراتھن دھماکوں کے نتیجے میں اپنے پاؤں اور رقص کرنے کے خواب سے ہاتھ دھونا پڑے مگر بایونک پاؤں نے ان کی زندگی بدل دی

بوسٹن میراتھن میں ہونے والے بم دھماكے میں زخمی ہونے والی ڈانس ٹیچر ایڈريانا ہیسلیٹ ڈیوس نے جب ٹیڈ 2014 کے پلیٹ فارم پر رقص کیا تو تمام حاضرین نے کھڑے ہو کر ان کے اس حوصلے کو داد دی۔

بم دھماکوں میں اپنے پاؤں کو جزوی طور پر کھونے کے بعد کسی عوامی فورم یہ ان کا پہلا مظاہرہ تھا۔

بوسٹن میراتھن کی دردناک واقعہ کے بعد انہوں نے ایک بار پھر رقص کرنے کا خواب دیکھا اور بلآخر اسے حاصل کیا۔

اس خواب کے احساس کا آغاز اس وقت ہوا جب ان کی ملاقات ہيو ہیر سے ہوئی۔ ہيو میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیكنالوجي میڈیا لیب میں بائیو کمیٹرانکس ریسرچ گروپ کی سربراہ ہیں۔

انہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال ایسے بايونك یا مصنوعی اعضا بنانے میں لگا دیے ہیں جو بالکل اصلی اعضاء کی طرح کام کرتے ہیں۔

درحقیقت ایسے اعضاء کی ضرورت انہیں خود بھی تھی۔

Image caption ڈاکٹر ہیر نے جدید بایونک اعضا بنانے کا کام اپنے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے بعد شروع کیا جس میں انہیں اپنے دونوں پاؤں سے ہاتھ دھونا پڑے

سال 1982 میں ڈاکٹر ہیر جو بہت مشہور پہاڑوں پر چڑھنے والوں میں سے ایک ہیں نے ماؤنٹ واشنگٹن پر چڑھنے کے دوران ایک حادثے میں اپنے دونوں پیر گنوا دیے اور ان کے ایک ساتھی کا بھی ایک پاؤں کاٹنا پڑا۔

آپ کو حیرت ہوگی کہ وہ وینکوور میں ٹیڈ (ٹیكنالوجي، انٹرٹینمنٹ اور ڈیزائن) کے اجلاس میں طویل طویل ڈگ بھرتے ہوئے نظر آئے۔

انہوں نے بتایا کہ اپاہج پن نے انہیں کس طرح متاثر کیا اور کیسے انہوں نے اس سے نمٹنے کی کوششیں کیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے یہ نہیں سوچا کہ میرا جسم کٹ گیا ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ میرے لیے ایک موقع ہے کہ میں اپنی معذوری اور دوسروں کی معذوری کو دور کروں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیبارٹری میں تیار کیے گئے یہ مصنوعی اعضاء جنہیں بایومس کہا جاتا ہے روایتی مصنوعی اعضا کے مقابلے میں کافی مختلف تھے کیونکہ یہ پٹھوں کی طرح ہی کام کرتے ہیں اور جلد سے منسلک ہوتے ہیں۔

انہوں نے پہاڑ چڑھنے کے لیے خاص طور پر تیار کیے گئے ’مزید مضبوط اور موثر‘ اعضا کے ساتھ وہ اپنے من پسند کھیل میں واپس لوٹے۔

اب تک مصنوعی اعضاء عام طور پر دھات، لکڑی اور ربڑ سے بنائے جاتے تھے لیکن اب اصلی بايونك یعنی مصنوعی اعضاء کی ترقی کا آغاز ہوا ہے۔

ان کی لیبارٹری میں تیار کیے گئے مصنوعی اعضاء جنہیں بایومس کہا جاتا ہے روایتی مصنوعی اعضا کے مقابلے میں کافی مختلف تھے کیونکہ یہ پٹھوں کی طرح ہی کام کرتے تھے۔

یہ ’بايومس‘ مصنوعی جلد سے منسلک تھے جو بالکل اصلی جلد کی طرح نظر آتی ہے۔

ہاسلیٹ ڈیوس کے لیے جو مصنوعی عضو بنایا گیا ہے اس کے پٹھوں میں اس بات کا خاص طور سے خیال رکھا گیا کہ وہ رقص کرنے میں معاون ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نجیل آکلینڈ کا بازو ایک حادثے میں کچلا گیا مگر نئے بایونک بازو جسے وہ ٹرمنیٹر کہتے ہیں کی مدد سے وہ اپنے جوتے کا تسمہ تک خود باندھ لیتے ہیں

مصنوعی اعضاء نے کئی لوگوں کو نئی زندگی دی ہے۔ فیکٹری میں ہونے والے ایک حادثے کے دوران نجیل آکلینڈ کا بازو کچلا گیا تھا۔ چھ ماہ بعد انہوں نے اپنی آستین کو کٹوانے کا فیصلہ کیا اور اس کے بعد وہ زندگی سے بہت مایوس ہو گئے۔

ان کی زندگی میں 2012 میں اس وقت بڑی تبدیلی آئی جب ان کے لیے ایک مصنوعی بازو تیار کیا گیا جس کو انہوں نے ٹرمنیٹر کا نام دیا۔

اب وہ اپنے جوتے کے تسمے تک خود باندھ سکتے ہیں۔

امینڈا بیکسٹل کا جسم 1992 میں سکی انگ کے دوران ہونے والے ایک حادثے کے دوران مفلوج ہو گیا تھا لیکن انہیں امید تھی کہ وہ ایک دن اٹھ کھڑی ہوں گی۔ گزشتہ سال وہ تھري ڈي پرنٹنگ ایکسو سکیلیٹن کی مدد سے چلنے والی پہلی خاتون بنیں۔

کچھ طریقوں سے یہ لوگ خوش قسمت ہیں۔ دنیا بھر میں تقریبا دو کروڑ ایسے معذور لوگ ہیں جن کے پاس مصنوعی اعضا نہیں ہیں۔

ڈاکٹر ہیر کافی پیچیدہ ٹیكنالوجي پر کام کر رہے ہیں لیکن انہیں امید ہے کہ اس سے معذوری کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہر شخص کے پاس اپنی مرضی کے مطابق اپنی زندگی جینے کا حق ہونا چاہیے۔‘

اسی بارے میں