گوگل کے بعد فیس بُک کا ڈرون

تصویر کے کاپی رائٹ internet.org
Image caption فیس بک کا ڈرون مواصلاتی سیاروں اور لیمر بیم کی مدد سے کام کرے گا

فیس بک ڈرونز، لیمر اور مصنوعی سیاروں کا استعمال کر کے دنیا کی ایک تہائی آبادی کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

اس منصوب ے کا اعلان فیس بک کے بانی مارک زوکربرگ نے کیا۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ فیس بُک کو گوگل کے مقابلے میں لا کھڑا کر دے گا جو غباروں کی مدد سے انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا کی یہ دو بڑی کمپنیاں خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں اپنی کوریج بڑھانا چاہ رہی ہیں۔

فیس بک کے منصوبے کے بارے میں کچھ زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں مگر اس میں شمسی توانائی پر چلنے والے ڈرونز اور نچلے مدار میں زمین کے متوازی گردش کرنے والے مصنوعی سیارے شامل ہوں گے۔

اس مقصد کے لیے انٹرنیٹ کے کنیکشن کو بہتر بنانے کے لیے انفرا ریڈ لیمر بیم کا استعمال کیا جائے گا۔

گزشتہ سال فیس بک اور دوسری ٹیکنالوجی کمپنیوں نے انٹرنیٹ ڈاٹ اورگ ( internet.org ) جاری کی جس کا مقصد دنیا کے ان بڑے علاقوں تک انٹرنیٹ کی رسائی مہیا کرنا ہے جو ابھی تک انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہیں۔

فیس بک پہلے ہی فلپائن اور پیراگوئے کے ساتھ انٹرنیٹ کے صارفین کی تعداد بڑھانے کے لیے اشتراک کر چکی ہوئی ہے۔

مارک زوکربرگ نے اس حوالے سے اپنی ایک تحریر میں لکھا کہ ’ہم اس طرح کے مشترکہ منصوبوں پر کام کرتے رہیں گے مگر دنیا کو منسلک کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی ایجاد کرنا ضروری ہے۔‘

اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے فیس بک نے کنیکٹیویٹی لیب کی بنیاد رکھی ہے جس میں ہوابازی اور مواصلات کے ماہرین شامل ہیں جن کا تعلق ناسا کے جیٹ پروپلشن لیب اور اس کے ایمس تحقیقی مرکز سے ہے۔

اس کام کے لیے فیس بک نے پانچ رکنی ٹیم کی خدمات بھی حاصل کی ہیں جنہوں نے برطانوی کمپنی اسینٹرا کے لیے کام کیا ہوا ہے جس کے بانیوں نے ’زیفر‘ نامی شمسی توانائی سے چلنے والا طیارہ بنایا تھا جس کے پاس دنیا کی طویل ترین پرواز کا ریکارڈ ہے۔

اس مہینے کے آغاز میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ فیس بک ڈرون طیارے بنانے والی کمپنی ٹائٹن کو خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہے مگر اس کا ذکر اس اعلان میں کہیں نہیں تھا۔

تجزیہ کار مارک لٹل کا کہنا ہے کہ ’یہ منصوبہ فیس بک کے اس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کا ہدف فیس بک کے صارفین کی تعداد ایک ارب بیس کروڑ تک پہنچانا ہے۔‘

مارک کا کہنا ہے کہ ’مارک زکربرگ اس منصوبے پر ایثار کے جذبے کے تحت کام کر رہے ہیں تاکہ دنیا میں زیادہ لوگوں کو منسلک کیا جا سکے، مگر انٹرنیٹ کے کنیکشن کی کل تعداد بڑھانے سے صاف ظاہر کہ فیس بک کے صارفین میں بھی اضافہ ہوگا اور زیادہ شیئرنگ ہو گی جس کے نتیجے میں اشتہارات کی مزید جگہ بنے گی جس سے آمدن میں بہت زیادہ اضافہ ہو گا۔‘

گزشتہ سال گوگل نے اس سے ملتے جلتے منصوبے کا اعلان کیا تھا کہ وہ شمسی توانائی سے چلنے والے غبارے تیار کرے گا جو دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی رسائی فراہم کر سکیں گے۔

اس منصوبے کا نام گوگل نے ’لون‘ رکھا تھا جس کے تحت 30 سپر پریشر غبارے نیوزی لینڈ میں فضا میں چھوڑے گئے تھے۔

مارک لٹل کا کہنا ہے کہ ’اس منصوبے کو کئی سیاسی رکاوٹیں عبور کرنی ہوں گی کیونکہ کئی حکومتیں نہیں چاہیں گی کہ اس نوعیت کا کوئی طیاروں کا بیڑا ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرے۔‘

مارک کے مطابق فیس بک اور گوگل کا ایسی ٹینالوجی بنانا شاید سب سے آسان کام ہو مگر اصل چیلنج حکومتوں کو قائل کرنا ہو گا کہ ان کے یہ نیٹ ورک قابل عمل ہیں۔

’اس کے علاوہ موبائل فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی اس نوعیت کے متبادل ذرائع کے خلاف ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں حکومتوں کو خدشہ ہوتا ہے کہ ان کی قومی مواصلات ایک بیرونی کمپنی کے پاس ہیں۔‘

اسی بارے میں