’محبت کے ہارمون‘ سے جھوٹ بولنے کے رجحان میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مائیں زچگی اور بچے کو دودھ پلانے کے دوران لو ہارمون آکسی ٹوسین خارج کرتی ہیں

ایک تازہ تحقیق کے مطابق اگر کسی گروہ کے ارکان کے اندر آکسی ٹوسین نامی ہارمون سونگھ لیں تو ان کے اندر جھوٹ بولنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔

جسم میں عام پائی جانے والی اس مخصوص رطوبت کو ’محبت کا ہارمون‘ بھی کہا جاتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ ہارمون کسی گروپ میں قریبی روابط کے دوران خارج ہوتا ہے اور یہ ماؤں کے اندر زچگی اور بچے کو دودھ پلانے کے عمل کے دوران خارج ہوتا ہے۔

تحقیق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے گروپ کے اراکین کے اندر جھوٹ بولنے کا امکان بڑھ جاتا ہے جب ایک فرد کے بجائے پورے گروپ کو فائدہ ہو۔

جب ایک گروپ کے اراکین کی ناکوں پر مالی فائدہ ہونے والے کام کے دوران آکسی ٹوسین کا سپرے کیا گیا تو انھوں نے اکیلے کام کرنے والوں کی نسبت زیادہ جھوٹ بولا۔ اس کام کے دوران جن افراد کی ناکوں پر آکسی ٹوسین کا سپرے نہیں کیا گیا تھا انھوں نے بہت کم جھوٹ بولا۔

اس مطالعے کے سربراہ اور محقق اسرائیل کی بن گوریان یونیورسٹی کے شاؤل شالوی نے کہا کہ ان کی ٹیم یہ بات معلوم کرنے میں دلچسپی رکھتی تھی کہ لوگ اپنے پیاروں کی خاطر کس حد تک جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر شالوی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا مفروضہ یہ ہے کہ ہمارے نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ لوگ اخلاقیات کا استعمال اپنے فائدے کے لیے کرتے ہیں جہاں آپ اچھے یا برے کا فیصلہ اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ اس کا آپ کے پیاروں یا گروپ کے اراکین کو فائدہ ہے یا نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ایک مشق کے دوران ’شریک افراد نے مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے نتائج کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔‘

ایک گروپ کو آکسی ٹوسین سنگھایا گیا جس کے بعد اس نے کمپیوٹر پر سکہ اچھالنے کی ایک مشق مکمل کی۔

گروپ کے ارکان سے کہا گیا کہ سکہ اچھالنے کے بعد وہ یہ بتائیں کہ سکے پر چہرہ آیا یا خط اور انھیں صحیح جواب دینے پر مالی انعام دیا جائے گا۔ یہ مشق اکیلے کرنے والوں کو بھی یہی انعام دیا گیا۔

یہ مشق کرنے والوں کو جھوٹ بولنے میں آسانی تھی کیونکہ جو بندہ یہ مشق کروا رہا تھا وہ سکہ اچھالنے کے نتائج نہیں دیکھ سکتا تھا۔

بعض کمپنیاں اب آکسی ٹوسین کو ’لو ہارمون‘ یا محبت کے ہارمون کے طور پر بیچ رہی ہیں لیکن ڈاکٹر شالوی کہتے ہیں کہ ’لوگ یہ طریقہ اختیار کرنے میں محتاط ہونا چاہیں گے‘ کیونکہ ان کے اخذ کیے گئے نتائج کے مطابق اس ہارمون سے لوگوں میں زیادہ بے ایمانی کرنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

لیکن انھوں نے کہا کہ ان کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جھوٹ بولنا شاید غیر اخلاقی کام نہیں ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہماری تحقیق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ’لوگ اخلاقی اقدار کی پامالی کو اس صورت میں صحیح سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی بے ایمانی ان کے پیاروں کو فائدہ پہنچا سکتی ہو۔‘

باسل یونیورسٹی کے تھامس بامگرٹنر نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک اچھے طریقے سے کی گئی دلچسپ تحقیق ہے جس سے آکسی ٹوسین کے سماجی فیصلوں اور رویوں پر اثرانداز ہونے کے بارے میں مزید ثبوت ملتے ہیں۔‘

اسی بارے میں