سمارٹ فون کے ذریعے گیزر کنٹرول کرنے کا آلہ

Image caption یہ آلہ سمارٹ فون کے ذریعے گیزر کو کنٹرول کرتا ہے

پاکستان کی سرکاری کمپنی سوئی ناردرن گیس کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سردیوں میں گیس کی مانگ سات ارب مکعب فٹ ہوتی ہے اور سپلائی چار ارب مکعب فٹ، یعنی ملک میں تین ارب مکعب فٹ گیس کی کمی ہے۔

گرمیوں میں گیس کی مانگ پانچ ارب مکعب فٹ تک پہنچ جاتی ہے اور ترسیل تین ارب مکعب فٹ ہوتی ہے۔ اگرچہ سوئی ناردرن گیس کا کہنا ہےکہ یہ اعداد و شمار خیبر پختونخوا، پنجاب اور کشمیر کے ہیں لیکن یہ پورے ملک کے حوالے سے بھی درست ہیں۔

پاکستان میں گیس سے چلنے والے گیزروں کی تعداد پانچ لاکھ سے ایک کروڑ تک ہے۔ پانچ لاکھ گیزروں کا مطلب ہے کہ ملک میں ہر 36 اشخاص کے لیے ایک گیزر ہے۔

ملک میں توانائی کے بحران کی وجہ سے شاید ایک نئی صنعت جنم لے رہی ہے جس میں لوگ اس دائمی مسلے کا حل نکالنے میں مصروف ہیں۔

ضیا عمران اور ڈاکٹر فرخ کامران نے ایک آلہ ’گیزر کنٹرول‘ بنانے میں مدد دی ہے۔ اس ایپ کا نام بھی ’گیزر کنٹرول‘ رکھا گیا ہے جو اس آلے کو چلاتا ہے۔

بنیادی طور پر اس کا کام یہ ہے کہ یہ گیس کے بل میں 30 سے 50 فیصد تک بچت کرتا ہے کیونکہ اس کی مدد سے گیس صرف ان اوقات میں استعمال ہوتی ہے جب صارف کو گرم پانی درکار ہوتا ہے۔

یہ آلہ فی الحال بازار میں نہیں لایا گیا کیونکہ ابھی اس کی جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔

ٹیکنالوجی کے شعبے میں 15 سال سے کام کرنے والے ایاز قدوائی نے کہا کہ یہ گیجٹ اچھا چلتا ہے لیکن ہر ٹیکنالوجی کی طرح یہ بھی پراڈکٹ ورژن 1.0 ہے اور ابھی اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔

قدوائی نے کہا کہ ’میں نے اس گیجٹ کو دیکھا ہے اور یہ بہت اچھا چلتا ہے ابھی تک مجھے اپنا بل نہیں ملا ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ بل میں تبدیلی تو آئے گی۔‘

اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک ایسا ایپ بنایا جائے جو آئی فون پر بھی چلے تو اس سے بہت بہتری آ سکتی ہے۔

پاکستان میں گوگل کے نمائندے بدر خوشنود ان چند لوگوں میں سے ہیں جو اس آلے کو ٹیسٹ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ سلنڈر کھلے بازار سے خریدتے ہیں لیکن اس آلے سے ان کو بھی تھوڑی بہت بچت ہوئی ہے۔ 15 دن کے لیے 40 کلوگرام گیس کا سلنڈر چھ ہزار روپے میں خریدتے تھے اب یہی سلنڈر تقریباٌ 20 روز تک چلتا ہے۔

ضیا کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماضی میں بھی گیزر کنٹرول بنائے گئے لیکن یہ آلہ خاص طور پر پاکستان میں استعمال کے لیے ہے۔

Image caption ضیا کا کہنا ہے کے اس کا ارادہ ہے کہ وہ اس آلے کا ایک سستا ماڈل بھی بنائیں گے جو گیزر کو صرف آن اور آف کرے

اس آلے کے موجد اور اس پر سرمایہ کاری کرنے والے ضیا عمران اور ڈاکٹر فرخ کامران ہیں لیکن ایک پوری ٹیم ان کی معاونت کر رہی ہے۔ اس ٹیم کے کچھ ارکان میں ایک ڈیزائنر، دو کل وقتی انجینیئر اور دو ڈاکٹریٹ ڈگری رکھنے والے ماہرین شامل ہیں۔

گیزر کنٹرول ضیا کی سوچ کا نتیجہ ہے۔ یہ خیال انہیں تب آیا جب انہوں نے سوئی گیس کمپنی کے اخباروں میں اشتہار دیکھے جن میں صارفین کو ہدایت کی گئی کہ وہ ہر صبح پانچ بجے اپنے گیزر بندکر دیا کریں۔

ضیا نے ہنستے ہوئے کہا: ’میں سوچتا تھا کہ بھلا صبح سویرے قلفی جمنے والی ٹھنڈک میں اٹھ کر کون گیزر بند کرنے جائے گا؟ اس آلے کا استعمال نہایت ہی آسان ہے، آپ اپنے سمارٹ فون پر گیزر کنٹرول ایپ کھو لیں اور اس پر ان اوقات کا اندراج کر دیں جن اوقات پر آپ گرم پانی چاہتے ہوں۔ فی الحال گیزر کنٹرول پر پانچ سیٹنگز ہیں: آف، ایک چوتھائی، نصف، تین چوتھائی اور فل۔‘

انھوں نے کا کہ ’آپ فون پر پورا ٹائم ٹیبل (اوقات کار) بھی درج کر سکتے ہیں اور جب چاہیں اس کو بدل سکتے ہیں۔ البتہ اس کے لیے آپ کو کسی نہ کسی سمارٹ فون کی ضرورت ہو گی۔ اس آلہ کو استعمال کرنے کے لیے آپ کا فاصلہ گیزر سے آٹھ فٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے اس آلے کی قیمت کے حوالے سے بتایا کہ ہمیں امید ہے کہ بازار میں ایک آلے کی قیمتِ فروخت تین ہزار روپے ہو گی۔ اس موسم سرما کے لیے ہم نے صرف 40 یونٹ بنائے تھے جو کہ مشین سے نہیں بلکہ ہاتھ سے بنائے گئے تھے۔ یہ سب بک گئے ہیں اور یہ ہم نے فیس بک اور سوشل میڈیا کے ذریعے بیچے تھے۔

ضیا کا کہنا ہے کے اس کا ارادہ ہے کہ وہ ایک سستا ماڈل بھی بنائیں گے جو گیزر کو صرف آن اور آف ہی کرے جس کی قیمت کوئی ایک ہزار روپے ہو گی۔

توانائی کے شعبے کے کنسلٹنٹ عبداللہ کا کہنا ہے کہ آلے سے بنیادی کام ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ ماضی میں بھی کئی آلات بنائے گئے، ’لیکن یہ جو موبائل ایپ ہے یہ بہت کام کی چیز لگتی ہے۔‘

حشام احمد الیکٹرک انجینیئر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ آلہ بڑے کام کا ہے اور تجارتی اعتبار سے بھی کارآمد لگتا ہے۔ یہ بات بھی حوصلہ افزا ہے کہ اس آلہ کے بنانے والوں نے صنعتی ڈیزائن بنانے والوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا ہے تاکہ وقت کے ساتھ اس میں بہتری لائی جا سکے۔ ورنہ تو اکثر اوقات بڑے اچھی اچھی یونیورسٹیوں کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں