صاف ماحول کا تاریک مستقبل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صاف ماحول اقوام متحدہ کی کانفرنس کا ایجنڈاہے۔

اگر جرمنی کی سب سے بڑی کوئلے کی کان کا جائزہ لیا جائے تو ماحول دوست مستقبل کا تصور غیر یقینی لگتا ہے۔

ایک طرف تو محقیقین اور سرکاری حکام اقوام متحدہ کی اگلے مہینے جاری ہونے والی حکومتی رپورٹ برائے موسمی تبدیلی پر کام کر رہے ہیں تو دوسری طرف جرمنی کی زمین میں دبے ایندھن کی صنعت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد توانائی کی ان ذرائع کی نشاندہی کرنا ہے جن میں کم سے کم نقصان دہ گرین ہاؤس گیسس خارج ہوتی ہیں۔

یہ رپورٹ جرمنی کی اپنی کوشش کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ایک منصوبے کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ اس منصوبے کا نام ’ انرجی ونڈے‘ ہے یعنی توانائی کی تبدیلی جس کا مقصد ہے کہ 2050 تک 80 فیصد توانائی دوبارہ استعمال ہونے والے ذرائع سے آنی چاہیے۔

مگر جنوبی برلن کے علاقے لاسوتز میں ویلزو ساؤتھ نامی کوئلے کی کان میں بڑی عمارتوں جیسی مشینیں لنگ نائٹ کے بڑے تودے نکال رہی ہیں جس سے کم کاربن کا خواب ناممکن لگتا ہے۔

لگ نائٹ جسے بھورا کوئلہ بھی کہا جاتا ہے کوئلے کی سب سےگندی قسم ہے مگر اس کی مدد سے جرمنی کی توانائی کا 26 فیصد حصہ بنایا جاتا ہے۔

اس میں جرمنی کا سب سے سخت کالا کوئلہ شامل کر دیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس ملک کی توانائی کا آدھا حصہ اس چیز سے بنتا ہے جسے ماحولیاتی محقیقین سب سے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت کوئلہ توانائی بنانے کا سب سے سستا اور آسان ذریعہ ہے۔ یہ خاصی مقدار میں موجود بھی ہے اور کان کنی سے ہزاروں لوگوں کا روزگار منسلک ہے اور پھر یہ بھی کہ کان کنی کو علاقائی سیاست دانوں اور یونین کی حمایت حاصل ہے۔

جرمنی جیسے ملک کےلیے جو ماحولیاتی سبقت دیکھانا چاہتا ہے اور اس سال کی اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس کی میزبانی بھی کر ہا ہے، ایسے ملک کا کوئلہ پر توانائی کےلیےانحصار اس کی بے بسی کی نشاندہی کرتا ہے۔

توانائی کے ماہر اوے گروسر توانائی کے متبادل ذرائع کی تو حمایت کرتے ہیں مگر وہ کوئلہ کے بغیر مستقبل کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ وہ کہتے ہیں ’ ہم وہ واحد ادارہ ہیں جو مسلسل توانائی فراہم کرسکتا ہے۔ یہ توانائی ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔‘

پروشم کا چھوٹا سا گاؤں ایک نئی کان کے راستے میں ہے۔ کوئلے کے لیے کئی گاؤں زمین بوس کر دیےگئے ہیں تاکہ لگ نائٹ کی کان کنائی ممکن ہو سکے مگر پروشم کچھ خاص ہے۔ یہاں 120 میں سے چالیس گھروں میں سولر پینل لگے ہیں اور قریبی کھیتوں میں ونڈ ٹربائن چلتی ہیں۔ ایک بڑے پبسٹر پر ’انرجی وینڈے‘ لکھا ہے اور یہ واقعی میں ماحولیاتی اعتبار سے ایک مثالی جگہ ہے۔

ہاگن روش کا خاندان صدیوں سے اس گاؤں میں رہتا آیا ہے۔ ان کےلیےاس ماحول کی خرابی نہایت نقصان دہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کوئلے کی کان ماحول، گاؤں، گھروں اور لوگوں کی زندگی کو خراب کر دے گی۔‘

اس لیے جہاں اقوام متحدہ ماحول کے لیے توانائی کے بہتر ذرائع کی نشاندہی کر رہی ہے اور جہاں جرمنی اس تصور کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کر رہا ہے وہیں پروشم کا زمین بوس ہونا مستقبل کے لائحہ عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔

اسی بارے میں