گوگل کی کمپیوٹرائزڈ عینک فروخت کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ AP

گوگل کمپنی نےاعلان کیا ہے کہ گوگل گلاس (چشمہ یا عینک) 15 اپریل سے امریکہ میں فروخت کے لیے جاری کر دیا جائےگا۔

گوگل گلاس یا چشمہ آنکھوں پر لگایا جانے والا کمپیوٹر ہے جسے آواز اور لمس کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

گوگل گلاس کو خریدنے والے کے لیے ضروری ہوگا اس کی عمر کم از کم اٹھارہ سال ہوآ۔ گوگل گلاس کی قیمت پندرہ سو امریکی ڈالر ہوگی۔

توقع ہے کہ گوگل گلاس ایک ماہ بعد یعنی مئی میں برطانیہ میں بھی فروخت کے لیے پیش کیا جائےگا۔

گوگل نے 2013 میں آٹھ ہزار افراد کو گوگل گلاس بیچا گیا تھا اور اس کے پہننے والوں کو ’ایکسپلورر‘ کا نام دیا گیا تھا۔

گوگل گلاس دراصل ایک ایسا سمارٹ فون ہے جس سے تصاویر اور ویڈیوز بنائی جاسکتی ہیں۔ انٹرنیٹ سے کنکشن کے ذریعے یہ گوگل گلاس پہننے والے کو بتا سکتا ہے کہ اس کی لوکیشن کیا ہے یعنی وہ کہاں کھڑا ہے اور سامنے والی بلڈنگ کا نام اور پتہ کیا ہے۔

گوگل گلاس پہننے والا شخص ایسا لمحے بھی ریکارڈ کر سکے گا جو وہ کیمرہ یا کمیرہ فون کو جیب سے نکال کر فوٹو لینے کی تیاری میں ضائع کر دیتا ہے۔

البتہ گوگل گلاس کے استعمال سے پرائیویسی کے بارے کئی سوالات جنم لے سکتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص گوگل پہن کر بس یا ٹرین پر سوار ہو اور سامنے والے شخص کی اجازت کے بغیر اس کی تصاویر یا ویڈیو بنا لے تو اسے کس قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک خاتون پر گوگل کی سمارٹ عینک لگا کر ڈرائیونگ کرنے پر ٹریفک پولیس نے جرمانہ کر دیا ہے۔

اسی بارے میں