جذبات ظاہر کرنے والا چشمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گوگل کمپنی کا گوگل گلاس امریکہ میں فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے

ایسے وقت میں جب گوگل اپنے سمارٹ چشمے ’گوگل گلاس‘ کو متعارف کرانے کی خوشی منا رہا ہے، وہیں جاپان میں ایک محقق اس ٹیکنالوجی میں ڈرامائی تبدیلی لائے ہیں۔

جاپان کے پروفیسر ہیروتاکا اوساوس نے ایک ایسی سمارٹ عینک تیار کی ہے جو اس چیز پر توجہ نہیں دیتی جسے صارف دیکھ رہا ہوتا ہے بلکہ یہ کمپیوٹر کی مدد سے اینمیشن تیار کرتی ہے۔

اس میں نصب خصوصی لینز کی مدد سے صارف دوسروں کی نظروں میں آئے بغیر تھوڑی دیر کے لیے اپنی نیند بھی پوری کر سکتا ہے۔

پروفیسر ہیروتاکا اوساوس نے کہا کہ صارف جب مصروف ہو یا اس کی توجہ کسی دوسری طرف ہو تب بھی وہ اس عینک کی مدد سے دوسروں پر اپنے جذبات ظاہر کر سکتا ہے۔

پروفیسر ہیروتاکا کے مطابق یہ اساتدہ، نرسوں اور ویٹرسوں، ملازماؤں، تھیراپی دینے والوں اور دوسروں سے بہت زیادہ رابطے میں رہنے والے دیگر پیشہ ور افراد کی ضرورت بن سکتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ترقی یافتہ معاشرے میں کارکنوں کو زیادہ سماجی ہونے کی ضرورت ہے۔

اس جدید چشمے کا مقصد صارفین کو ٹیکنالوجی کی مدد سے زیادہ سماجی خصوصیات مہیا کرنا ہے، جو بعض ایسے روبوٹوں میں پہلے سے موجود ہیں جو ہماری جسمانی مشقت کم کرنے میں ہاتھ بٹاتے ہیں، جب کہ دوسری طرف کمپیوٹر ہیں جو ہماری ذہنی سرگرمیوں میں مدد دیتے ہیں۔

اس سمارٹ عینک میں دو جدید سکرینیں لگی ہوئی ہیں جو بلیو ٹوتھ کے ذریعے سمارٹ فون یا کمپیوٹر کی مدد سے کنٹرول کی جا سکتی ہیں۔ یہ کیمرے سے بھی منسلک کی جا سکتی ہیں تاکہ زیادہ وسیع ماحول کا مشاہدہ کیا جا سکے۔

عینک کے ایک جانب gyrometer اور accelerometer سینرز بھی نصب ہیں تاکہ صارف کے رویے پر نظر رکھی جا سکے۔ اگر چشمے میں موجود سافٹ ویئر کسی دوسرے شخص کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ صارف کو براہِ راست دیکھ رہا ہے تو اس صورت میں کمپیوٹر کی مدد سے سکرین پر مصنوعی آنکھ بنے گی جو اس شخص کی جانب دیکھتی رہے گی۔

پروفیسر ہیروتاکا اوساوس کے مطابق اگرچہ یہ بالکل سادہ جذبات ہیں لیکن اس سے دوسروں کو یہ احساس کرنے کا موقع ملتا ہے کہ ان پر توجہ دی جا رہی ہے۔

پروفیسر ہیروتاکا جانتے ہیں کہ ان کا آزمائشی چشمہ دیکھنے میں عجیب سا لگتا ہے۔

اس چشمے کی تشہیر کے لیے تیار کی جانے والی ایک مزاحیہ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ پروفیسر اپنی یونیورسٹی کے ایک اجلاس میں چشمہ لگائے بڑے چوکس نظر آ رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اس وقت نیند کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tsukuba University
Image caption ق اگرچہ یہ بالکل سادہ جذبات ہیں لیکن اس سے دوسروں کو یہ احساس کرنے کا موقع ملتا ہے کہ ان پر توجہ دی جا رہی: پروفیسر ہیروتاکا اوساوس

بعض لوگوں کے خیال میں اگر اس آلے کو مزید بہتر بنایا جائے تو اسے مارکیٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

اس چشمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے یونیورسٹی کالج لندن کی ڈاکٹر نادیہ بہتھوز کے مطابق اس چشمے کو مغربی اور مشرقی ثقافتوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں لوگوں کو بعض اوقات ایک دوسرے کی جذباتی کیفیت کو سمجھنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لیکن لوگ دوسروں کے جذبات کے اظہار کے لیے کیے جانے والے اشاروں کا غلط مطلب بھی سمجھ سکتے ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اس آلے کو اس طرح سے تیار کیا جا سکتا ہے جس میں دو ایسی ثقافتوں میں مختلف طریقے سے کام کرے جن میں جذبات کے اظہار کے لیے چہرے کے تاثرات مختلف ہوتے ہیں۔

اس طرح یہ چشمہ چہرے کے تاثرات کی ترجمانی کا عمدہ ذریعہ بن سکتا ہے۔

اسی بارے میں