غیر معمولی روشن سپر نووا کا راز دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption پھٹنے والے ستارے کو سپر نووا کہتے ہیں

سائنس دانوں نے پھٹنے کے قریب ایک ستارے ’سپر نووا‘ کی غیر معمولی روشنی کا راز دریافت کر لیا ہے۔

اس ستارے کی غیر معمولی روشنی نے سائنس دانوں کو چند برسوں سے پریشان کر رکھا تھا، تاہم اب معلوم ہو گیا ہے کہ یہ غیر معمولی چکاچوند ستارے کے سامنے موجود ایک پوشیدہ کہکشاں کے باعث تھی۔

پھٹنے کے قریب پہنچنے والے اس ستارے کی روشنی ہمارے سورج کی روشنی سے ایک کھرب گنا زیادہ ہے۔

ماہرینِ فلکیات نے امریکی ریاست ہوائی میں نصب ایک دوربین کی مدد سے سپر نووا (پھٹنے والا ستارہ) اور زمین کے درمیان موجود کاسمک لینز یا کائناتی محدب عدسہ دریافت کیا ہے۔

جریدے سائنس میں شائع میں ہونے والی اس دریافت نے فلکیات کے اس معمے کو حل کر دیا ہے۔

2010 میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے پہلی بار PS1-10afx نامی اس سپرنوواکا مشاہدہ کیا تھا تو اس وقت یہ کسی بھی سپر نووا ستارے سے 30 گنا زیادہ روشن تھا۔

اس سے سائنس دانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ستارے کے پھٹنے کا یہ عمل دوسرے سپر نووا سے بالکل مختلف ہے۔

یونیورسٹی آف ٹوکیو کیولی کے ڈاکٹر رابرٹ کیمبے کے مطابق دیگر بہت نایاب سپرنووا دریافت ہوئے ہیں، جو خاصے روشن بھی تھے، لیکن اس ستارے کا معاملہ کچھ عجیب تھا۔

PS1-10afx ہر لحاظ سے بہت مختلف تھا اور اس نے بہت تیزی سے ارتقائی مراحل طے کیے، اس کی میزبان کہکشاں بہت بڑی تھی اور یہ بہت زیادہ سرخ تھا۔

ان کی ٹیم کا ایک دوسرا خیال تھا کہ PS1-10afx ون اے ٹائپ کا عام سپرنووا ہے اور اسے کسی لینز نے بڑا کر کے دکھایا۔قریب میں واقع کوئی بہت بڑا بلیک ہول اس قسم کے لینز کا کام کرسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہماری وضاحت کو جادو کی ضرورت تھی اور سائنس دان عام طور پر جادو پر یقین نہیں رکھتے۔‘

تاہم انھوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس ستارے اور ہماری زمین کے درمیان ایک ثقلی لینز موجود ہے جو سپرنووا کی روشنی کو بڑھانے کا سبب ہے۔

انھوں نے کہاکہ ثقلی لینز اس وقت بھی موجود رہے گیا جب سپرنووا غائب ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ A.More Kavli IPMU
Image caption جب کوئی ستارہ یوں پھٹتا ہے تو اُس سے سورج کی روشنی سے پانچ ارب گنا زیادہ روشنی نکلتی ہے

سائنس دانوں نے اس کو تلاش کرنے کے لیے ہوائی میں موجود کیک ٹیلی سکوپ سے PS1-10afx کی میزبان کہکشاں کا مشاہدہ کیا۔

ڈاکٹر کیمبے نے کہا کہ انھوں نے یہ دیکھنا چاہا کہ آیا روشنی دو مختلف فاصلوں سے دو ذرائع سے آ رہی ہے اور یہی ہم نے اس میں دریافت کیا۔

انھوں نے کہا کہ وہاں ایک دوسری کہکشاں بھی موجود تھی جو سپرنووا کے سامنے چھپی ہوئی تھی اور ستارے سے خارج ہونے والی روشنی اس کہکشاں سے منعکس ہو کر اس کی روشنی کو بڑھا دیتی تھی۔

محققین کے مطابق یہ لینز پچھلی بار ڈھونڈا نہیں جا سکا تھا کیونکہ اس کہکشاں کی روشنی سپرنووا کی چکاچوند میں گم ہو گئی تھی۔

خیال رہے کہ کوئی بڑا ستارہ جب اپنا ایندھن ختم کر بیٹھتا ہے تو وہ ایک عظیم دھماکے کے ساتھ پھٹ پڑتا ہے، جس سے بےتحاشا روشنی، توانائی اور تابکاری خارج ہوتی ہے۔ اس عمل کو سپر نووا کہا جاتا ہے۔

عام طور پر سپر نووا دھماکہ اس قدر روشن ہوتا ہے کہ اس کے سامنے اربوں ستاروں پر مشتمل کہکشاں کی مشترکہ روشنی بھی ماند پڑ جاتی ہے۔

اسی بارے میں