پولیو پر عالمی ادارۂ صحت کا خصوصی اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس 2014 میں پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد میں 600 فیصد اضافہ ہوا ہے

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں عالمی ادارۂ صحت کا پولیو کے حوالے سے چار روزہ ہنگامی اجلاس جاری ہے جس میں ذرائع کے مطابق پاکستان پر بین الاقوامی سطح پر سفری پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

بھارت نے جسے پولیو سے پاک قرار دیا جا چکا ہے پہلے ہی پاکستانی مسافروں پر انسدادِ پولیو ویکسینیشن لازمی کر چکا ہے۔

دنیا بھر میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ پولیو کے کیس سامنے آئے ہیں اور گذشتہ برس کے مقابلے میں یہاں پولیو کے نئے مریضوں کی تعداد میں اس سال میں اب تک 600 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

2013 میں اپریل کے مہینے تک پاکستان میں 8 پولیو کے کیس سامنے آئے تھے، جبکہ اس سال پہلے چار ماہ میں 56 مریض منظرِ عام پر آچکے ہیں۔

نائیجریا اور افغانستان سمیت، پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو کا وائرس عام ہے۔ تاہم، نائیجریا میں گذشتہ برس اپریل تک 14 کیس سامنے آئے تھے، اور اس سال اسی مدت میں 1 کیس سامنے آیا ہے۔

ادھر افغانستان میں گذشتہ سال اور اس سال اپریل تک دو کیسز کی ہی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ عراق، شام، اور ایتھوپیا میں بھی پولیو کے سامنے آئے ہیں۔

پیر کو شروع ہونے والے اس اجلاس کا فیصلہ دو دن بعد آئے گا۔ یہ اجلاس جینیوا میں ٹیلی کانفرنس کے ذریعے کیا جا رہا ہے اور اس میں پاکستان، امریکہ اور سعودی عرب سمیت، چودہ ممالک کے ماہرینِ صحت شرکت کر رہے ہیں۔

عالمی ادارہِ صحت کے انٹرنیشنل ہیلتھ ریگیولیشنز کے اس اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنا رکن ممالک پر لازمی ہوتا ہے۔

اجلاس میں ہیلتھ سروس اکیڈمی اسلام آباد کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اسد حفیظ پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

پولیو کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق نے بھی پیر کے روز اجلاس میں شرکت کی۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے بین الاقوامی برادری کو احساس دلانے کی کوشش کی کہ پاکستان جن خاص سکیورٹی اور سیاسی چیلنجیز کا سامنا کر رہا ہے، اس کا سامنا کسی اور ملک کو نہیں: ’ایسا نہیں ہے کہ حکومت نے غفلت کی ہے۔ جہاں ہم کام کر سکے، وہاں ہم کامیاب رہے اور یہی وجہ ہے کہ پولیو وائرس کی افزائش کو ملک کے نو اضلاع تک محدود کر دیا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے انسدادِ پولیو مہم کو آگے بڑھانے کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک سے 227 ملین ڈالرز کا قرضہ بھی لیا ہے، اور سکیورٹی کے مسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پشاور، کراچی، چارسدہ، صوابی اور مردان میں ہنگامی انسدادِ پولیو چلائی ہیں۔

خیال رہے کہ وزیرِ اعظم کے پولیو کی نگرانی کے سیل نے منگل کو قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے دو تازہ مریضوں کی اطلاع دی ہے۔

پاکستان میں 2014 میں پولیو کے سب سے زیادہ 38 کیس شمالی وزیرستان سے آئے ہیں جبکہ دیگر قبائلی علاقوں سے چھ، خیبر پختونخوا سے آٹھ اور کراچی سے چار کیس رپورٹ ہوئے۔

خیال رہے کہ شدت پسند گروہ حافظ گل بہادر گروپ کی جانب سے وزیرستان میں انسدادِ پولیو مہم پر جولائی 2012 سے پابندی عائد ہے

گذشتہ ہفتے فوج کے دفتر تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے فوج کو سویلین حکومت کی مدد کرنے کو کہا گیا ہے۔

اسی بارے میں