گوگل کی اب طالب علموں کے اکاؤنٹس پر نظر نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ GOOGLE
Image caption گوگل نے اس نوعیت کے جائزوں کو گذشتہ ماہ اس وقت اپنی سروس میں ظاہر کیا تھا

دنیا میں انٹرنیٹ کی بڑی کمپنی گوگل نے اپنی جی میل سروس کے تعلیمی پروگرام سے منسلک لاکھوں اکاؤنٹس پر نظر رکھنے کا سلسلہ روک دیا ہے۔

گوگل نے صارفین کو متعلقہ اشتہارات فراہم کرنے کے لیے طالب علموں کے ای میل اکاؤنٹس پر نظر رکھنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ان اکاؤنٹس میں تعلیمی مقصد کے لیے بنائی گئی گوگل ایپ ’جی اے ای‘ بھی شامل ہے۔

اساتذہ اور طالب علموں کو گوگل کی اس سہولت تک مفت رسائی حاصل تھی اور اس کے علاوہ ان کا حسب ضرورت schoolname.edu@ پر ای میل اکاؤنٹ بھی بن جاتا تھا۔

گوگل نے ای میل پر نظر رکھنے کے پروگرام کو ان اطلاعات کے بعد بند کیا ہے جب یہ سوالات پیدا ہوئے تھے کہ ای میل اکاؤنٹس پر نظر رکھنے سے نجی معلومات سے متعلق امریکی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

گوگل نے اس نوعیت کے جائزوں کو گذشتہ ماہ اس وقت اپنی سروس میں ظاہر کیا تھا جب اس نے اپنی سروس کے استعمال سے متعلق قواعد و ضوابط کو ازسرنو ترتیب دیا تھا۔

گوگل کے قواعد و ضوابط کے مطابق: ’ہمارا خودکار نظام آپ کی ای میل سمیت دیگر مواد کا تجزیہ کرے گا تاکہ آپ کو ذاتی طور پر درکار مصنوعات اور فیچرز جیسا کہ سرچ کے حسب ضرورت نتائج، اور اشتہارات فراہم کیے جا سکیں اور غیر ضروری مواد کو روکا جا سکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption گوگل کا کہنا ہے کہ تین کروڑ سے زائد طالب علم، اساتذہ اور انتظامیہ کے اہلکار ’جی اے ای‘ سروس کا استعمال کرتے ہیں

تاہم دی ایجوکیشن ویک ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ مواد کو دیکھنے سے خاندانی تعلیمی حقوق اور نجی معلومات سے متعلق امریکی ایکٹ کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

برطانیہ میں اساتذہ کی سب سے بڑی یونین نے گوگل کی پالیسی میں تبدیلی کا خیرمقدم کیا ہے۔

این یو ٹی کی سیکریٹری جنرل کرسٹین بلورر کا کہنا ہے کہ ’ کمرشلائزیشن یا تجارت پسندی طالب علموں کی زندگی کے تمام گوشوں تک آہستہ آہتسہ پہنچ رہی ہے۔‘

گوگل کا کہنا ہے کہ تین کروڑ سے زائد طالب علم، اساتذہ اور انتظامیہ کے اہلکار ’جی اے ای‘ سروس کا استعمال کرتے ہیں۔

گوگل فار ایجوکیشن کے ڈائریکٹر برام بوٹن نے کمپنی کے بلاگ میں لکھا ہے کہ ’ہم نے جی میل کی تعلیمی اپلیکیشن پر نظر رکھنے کےعمل کو مستقل طور پر ختم کر دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ گوگل طالب علموں کی معلومات کو تعلیمی سہولیات اور اشتہاری مقاصد کے لیے حاصل نہیں کرے گا۔‘

یہ تبدیلی ان صارفین کے لیے بھی ہے جو اپنے سکول یا یونیورسٹی سے جی میل سروس استعمال کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسی نوعیت کی تبدیلیوں کا اطلاق گوگل کی سرکاری اور کاروباری سہولیات کے پروگرامز پر بھی ہو گا تاہم دیگر جی میل صارفین کے اکاؤنٹ کو سکین کرنے کا عمل جاری رہے گا۔

مہم چلانے والے بگ بردر واچ گروپ کی ڈپٹی ڈائریکٹر ایما کارر نے کہا: ’یقیناً گوگل جیسی کمپنیاں جو اشتہارات کے لیے صارفین کے مواد پر بہت انحصار کرتی ہیں، وہ لوگوں کی نجی معلومات کے حصول کے بارے میں لاحق خدشات ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔‘

اسی بارے میں