ہارمونز میں تبدیلی سے بانجھ پن کا علاج ممکن

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption محققین کا کہنا ہے کہ یہ ایک تصوراتی مطالعہ تھا اور بانجھ پن پر اس کا اثر دیکھنے کے لیے وسیع مطالعے کی ضرورت ہو گی

جسم میں پائے جانے والے اہم ہارمونز کے دماغ پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں کی گئی ایک نئی تحقیق سے بانجھ پن کے علاج میں مدد ملنے کا امکان ہے۔

یہ تحقیق برطانوی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے کی ہے۔

لندن کے امپیریئل کالج کی ٹیم نے ایسی پانچ خواتین پر تحقیق کی جنہیں ہائپوتھیلمك ایمینوریا یا ’ایچ اے‘ کا مسئلہ تھا۔ یہ بیماری خواتین کھلاڑیوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے اور اس میں ماہواری بند ہو جاتی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دماغ کو متحرک کرنے سے كِس پیپٹن (kisspeptin) ہارمون کا اخراج بڑھ جاتا ہے جس کے باعث بانجھ پن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا دائرہ چھوٹا ہے لیکن اس سے ایک اہم تصور کی تصدیق ہوتی ہے۔

سائنس دانوں نے اس بات پر غور کیا کہ ہائپوتھیلمك ایمینوريا سے شکار خواتین میں كِس پیپٹن اور دیگر عمل سے متعلق ہارمون میں کم ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کے ماہانہ سائیکل میں دقت آتی ہے جس کی وجہ سے ان میں بانجھ پن کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

برطانیہ میں ہر 100 خواتین میں سے ایک اور ہر دس پیشہ ور خواتین کھلاڑیوں میں سے ایک کو ہائپوتھیلمك ایمینوريا کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔

کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ ان خواتین میں عام طور پر پایا جاتا ہے جو اکثر ڈیپریشن میں رہتی ہیں۔

ان خواتین میں ہائپوتھیلیمس صحیح طریقے سے ہارمون پیدا کرنا بند کر دیتا ہے۔ ہائپوتھیلمس دماغ کا وہ ایسا حصہ ہے جو دوسرے کاموں کے علاوہ حیض کو کنٹرول کرتا ہے۔

اس ٹیم نے ہائپوتھیلیمس سے بنے دو ہارمون كِس پیپٹن اور لیوٹینائزنگ ہارمون (ایل ایچ) کا مطالعہ کیا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ كِس پیپٹن دماغ میں ایل یچ بنانے کی رفتار کو تیز کرتا ہے۔ لیکن اگر جسم میں ایل ایچ کے ساتھ ساتھ دیگر ہارمونز میں کمی آئے تو خواتین کے رحم میں بیضے بننا اور ماہواری آنا بند ہو سکتا ہے۔

لیکن محققین کا کہنا ہے کہ پولی سِسٹک رحم کی طرح ایچ اے بانجھ پن کا سبب اتنا عام نہیں ہے۔

سائنس دانوں نے چھ سے آٹھ گھنٹے کے سیشن کے دوران ایچ اے کا شکار پانچ خواتین کو مختلف مقدار میں كِس پیپٹن دی۔

انھوں نے اپنی تحقیق میں 24 سے 31 سال کی خواتین کو شامل کیا۔ اس تحقیق کی رپورٹ جرنل آف كلینیكل انڈوكرائنالوجی اینڈ میٹابالزم میں شائع ہوئی تھی۔

خواتین کو مختلف مقدار میں كس پیپٹن دی گئی اور ان کے ایل ایچ کی مقدار کو ہر دس منٹ پر خون کے نمونے لے کر ناپا گیا، اور اس کے بعد پہلے کیے گئے ٹیسٹ کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ كس پیپٹن کی مقدار بڑھنے سے ایل ایچ کی سطح میں بھی اضافہ ہوا اور اس سے خون میں ایل ایچ کے جانے کی رفتار میں بھی تیزی آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ كس پیپٹن ایل ایچ کی رفتار کو بڑھانے کے لیے اعصاب کو زیادہ فعال کر سکتا ہے۔

اہم محقق ڈاکٹر چننا جياسینا کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’یہ چھوٹا، تصوراتی مطالعہ تھا۔ بانجھ پن پر اس کا اثر دیکھنے کے لیے وسیع مطالعہ کی ضرورت ہو گی۔‘

انہوں نے کہا: ’ہم نے کم وقت میں یہ دکھایا ہے کہ کچھ خاص خوراک کے ساتھ چار دفعہ كس پیپٹن دینے سے ایل ایچ کی رفتار کو برقرار رکھ سکتے ہیں جو خواتین میں بچوں کی پیدائش کے لیے ضروری ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں