دماغ سے چلنے والا مشینی ہاتھ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈیکا ہاتھ کو بناتے وقت اس بات پر خصوصی توجہ دی گئی کہ یہ قدرتی ہاتھ جیسا نظر آئے: ڈارپا

امریکی محکمۂ صحت کے حکام نے ایک ایسے مشینی ہاتھ کی توثیق کی ہے جو قدرتی ہاتھ کی طرح عام اشیا کو اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

’ڈیکا آرم‘ کے نام سے جانے والے اس مشینی ہاتھ کی انگلیاں قدرتی ہاتھ کی انگلیوں کی طرح حرکت کر سکتی ہیں۔

اعضا سے محروم افراد اس مشینی ہاتھ سے اپنے کپڑوں کی زپ بند کر سکیں گے اور دروازے کھول سکیں گے۔ اس نئے ہاتھ کی پہنچ اس وقت رائج کھونٹی نما مصنوعی ہاتھوں سے کہیں زیادہ ہے۔

امریکی فوج کے سپاہیوں نے اس مشینی ہاتھ کو ٹیسٹ کرنے اور اسے بہتر بنانے کے لیے ہونے والی ریسرچ میں مدد فراہم کی ہے۔

اس مشینی ہاتھ کی تیاری امریکی فوج کے ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹ (ڈارپا) کے تحت ہوئی ہے۔

ڈارپا کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ ایسے مصنوعی اعضا تیار کرے جو اعضا کھو دینے والے افراد کو لگائے جا سکیں۔

حالیہ برسوں میں مصنوعی اعضا کے معیار میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، لیکن زیادہ توجہ مصنوعی ہاتھوں اور پاؤں پر دی گئی ہے۔

انجینیئروں کو مصنوعی اعضا کو زیادہ مفید بنانے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

ابھی تک سرکاری طور پر ایسے اعضا کی منظوری دی گئی ہے جس کی انگلیاں دھات سے بنی کھونٹیوں (ہکس) سے مشابہت رکھتی ہیں جبکہ ڈیکا ہاتھ کی انگلیاں قدرتی انگلیوں سے مشابہ ہیں۔

ڈارپا کے ترجمان جسٹن شانز نے خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ ڈیکا ہاتھ کو بناتے وقت اس بات پر خصوصی توجہ دی گئی کہ یہ قدرتی ہاتھ جیسا نظر آئے۔

ڈیکا ہاتھ برقی لہروں سےانسانی پٹھوں کی حرکت کو محسوس کرتا ہے جس سے اس کی انگلیاں دس مختلف انداز میں حرکت کر سکتی ہیں۔

امریکی فیڈرل ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے، جو ملک میں مصنوعی اعضا کی منظوری کی ذمہ دار ہے، کہا ہے کہ ڈیکا ہاتھ ایسےلوگوں کے لیے ہیں جن کا بازو کندھے، یا بازو کے اوپری حصے یا کلائی سے علیحدہ ہوگیا ہو۔

ممتاز انجینیئر ڈین کامن نے ڈیکا ہاتھ بنانے والی کمپنی کی بنیاد رکھی تھی۔ ڈین کامن نے سیگوے سکوٹر اور کئی دوسرے آلات تخلیق کیے ہیں۔