شمسی جھکڑ زمین پر بجلیاں گراتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption جب سورج سے نکلنے والے بجلی سے لبریز ذرات زمینی فضا سے ٹکراتے ہیں تو بجلی کوندنے کے عمل میں اضافہ ہوتا ہے

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سورج پر ہونے والی سرگرمی کے نتیجے میں زمین پر بجلیاں گرتی ہیں۔

سائنس دانوں نے تحقیق کے دوران یہ دریافت کیا ہے کہ جب تیز رفتار شمسی ذرات کے جھونکے زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں تو بجلی کوندنے کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

یہ تحقیقی مقالہ ’انوائرنمنٹل ریسرچ لیٹرز‘ نامی جریدے میں شائع ہوا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ آج چونکہ سورج پر ہونے والی سرگرمی کا سیٹیلائٹ کے ذریعے باریک بینی سے مطالعہ ہو رہا ہے اس لیے شدید طوفانوں کی پیش گوئی اب بہت حد تک ممکن ہے۔

ریڈنگ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سائنس دان اور اس تحقیق کے نمائندہ محقق ڈاکٹر کرس سکاٹ کا کہنا ہے: ’آسمانی بجلی اہم خطرات کی نمائندگی کرتی ہیں، اور ہر سال 24 ہزار افراد بجلی کی زد میں آ جاتے ہیں، اس لیے اگر بجلی کی شدت اور بجلی والے طوفان کی پیشگی معلومات یا وارننگ ہمارے لیے ضرور مفید ثابت ہوں گی۔‘

جب سورج گردش کرتا ہے تو آگ کے اس عظیم گولے سے برقی ذرات چار سو سے آٹھ سو کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے باہر نکلتے ہیں۔

اس شمسی ہوا کی آمد سے فضا میں دنیا کی شمالی علاقوں میں قطبی روشنیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زمین کے موسموں کو کس طرح متاثر کر سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ nasa
Image caption سورج سے مسلسل چارجڈ ذرات نکلتے رہتے ہیں

ڈاکٹر سکاٹ نے کہا: ’شمسی ہوائیں مستقل ایک رفتار سے نہیں چلتیں بلکہ ان کے ہلکے اور تیز جھکڑ چلتے ہیں۔ چونکہ سورج گردش کرتا رہتا ہے اس لیے ایک کے بعد دوسرا جھونکا نکلتا ہے، اس لیے اگر سست شمسی جھونکے کے پیچھے تیز شمسی جھونکا آتا ہے تو اس سے ارتکاز پیدا ہوتا ہے۔‘

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جب شمسی ہواؤں کی تیزی اور تندی میں اضافہ ہوتا ہے تو زمین پر بجلی کوندنے کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔

سائنس دانوں کی اس ٹیم نے کہا ہے کہ جب یہ شمسی ذرات زمین سے ٹکرائے تو زمین پر خراب موسم ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔

شمالی یورپ کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے سائنس دانوں نے یہ دریافت کیا کہ تیز رو شمسی ہوا کے ٹکرانے کے بعد 40 دنوں میں 422 بار بجلیاں گریں۔ اس کے مقابلے میں اس سے پہلے کے 40 دنوں میں صرف 321 بار بجلیاں گری تھیں۔

ڈاکٹر سکاٹ کا کہنا ہے کہ یہ دریافت حیران کن ہے کیونکہ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ شمسی ہوا میں اضافے سے اس کے اثرات الٹے ہوتے ہیں۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’یہ غیر متوقع ہے، کیونکہ ذرات کے یہ جھونکے اپنے ساتھ بجلی سے بھرپور مقناطیسی میدان لاتے ہیں اور اس کی وجہ سے نظام شمسی سے باہر سے آنے والی زیادہ توانائی والی قدرتی شعاعوں سے زمین کی حفاظت ہوتی ہے۔ یہ خطرناک قدرتی شعاعیں اس وقت خارج ہوتی ہیں جب ستاروں کے پھٹنے کے بعد ذرات تقریباً روشنی کی رفتار سے خارج ہوتے ہیں۔‘

پہلے کی تحقیقات میں یہ دکھایا گیا تھا کہ قدرتی شعاعوں سے بجلی گرنے کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے، اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ شمسی ذرات سے ملنے والے زیادہ تحفظات سے اس میں کمی آئے گی۔

اسی بارے میں