’انٹارکٹیکا میں برف پگھلنے کی رفتار دگنی ہو گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تجزیے کے مطابق انٹارکٹیکا سےبرف پگھلنے کی رفتار سے سمندر کی سطح 0.43 ملی میٹر بلند ہو سکتی ہے

ایک تازہ سائنسی تجزیے میں کہا گیا ہے کہ انٹارکٹیکا میں 160 ارب ٹن برف سالانہ پگھل کر سمندر میں بہہ رہی ہے۔

یورپ کے کرایوسیٹ سپیس کرافٹ نے انٹارکٹیکا کا تازہ مشاہدہ کیا ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ جب انٹارکٹیکا کا آخری بار مشاہدہ کیا گیا تھا، اس کے بعد سے برف پگھلنے کی رفتار دگنی ہو گئی ہے۔

کرایوسیٹ پر مخصوص ریڈار نصب ہیں جو برف کی چادر کی پیمائش کر سکتے ہیں۔

تجزیے کے مطابق انٹارکٹیکا سےبرف پگھلنے کی رفتار سے سمندر کی سطح 0.43 ملی میٹر بلند ہو سکتی ہے۔

یہ تازہ تجزیہ جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز نامی سائنسی جرنل میں شائع ہوا ہے۔

اس تجزیے میں 2010 سے 2013 تک کی پیمائشیں اور 2005 سے 2010 تک کی مختلف سیٹیلائٹس سے لی جانے والی معلومات شامل کی گئی ہیں۔

کرایوسیٹ نے انٹارکٹیکا میں برف کی چادر کی اونچائی میں تبدیلی معلوم کرنے کے لیے آلٹی میٹر یعنی بلندی ناپنے کے آلے کا استعمال کیا۔

برف کی چادر کی کمیت برفباری کے دوران بڑھ جاتی ہے اور پگھلنے کے وقت کم ہو جاتی ہے۔

سائنس دانوں نے اس تجزیے کو ’بگ ڈیل‘ کا نام دیا ہے اور اس میں برِ اعظم کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ یہ تین حصے مغربی انٹارکٹیکا، مشرقی انٹارکٹیکا اور جزیرہ نما انٹارکٹیکا ہیں۔

کرایوسیٹ کے مطابق ان تینوں حصوں میں برف پگھل رہی ہے اور برف کی چادر میں اوسطاً سالانہ دو سینٹی میٹر کی کمی واقع ہو رہی ہے۔

تجزیے کے مطابق مغربی انٹارکٹیکا میں سالانہ 134 ارب ٹن، مشرقی انٹارکٹیکا میں تین ارب ٹن اور جزیرہ نما انٹارکٹیکا میں 23 ارب ٹن برف میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

پچھلے تجزیے میں معلوم ہوا تھا کہ مشرقی انٹارکٹیکا میں بہت زیادہ برفباری ہوئی تھی جس کی وجہ سے برف کی چادر موٹی ہو گئی تھی۔ اس تازہ تجزیے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مشرقی انٹارکٹیکا میں برف بہت کم پگھل رہی ہے۔

سائنس دان بہت عرصے سے مغربی انٹارکٹیکا کے بارے میں فکر مند تھے کیونکہ وہاں پر برف پگھلنے کی رفتار بہت زیادہ ہے۔

مغربی انٹارکٹیکا میں ایک علاقہ ہے جس کو ایمنڈسن سی ایمبیمنٹ کہتے ہیں اور اس میں چھ بڑے گلیشیئرز ہیں، جن میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ ان میں کمی کی وجہ گرم سمندری پانی کا ان سے ٹکرانا ہے اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث تیز ہوائیں گرم سمندری پانی کو مغربی انٹارکٹیکا کی جانب لاتی ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق مغربی انٹارکٹیکا کی برف کی چادر جو پگھل رہی ہے اس کا 90 فیصد چند برفانی نہروں کے ذریعے پگھل رہا ہے۔

کرایوسیٹ کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ مغربی انٹارکٹیکا میں سمتھ گلیشیئر کی برف کی چادر میں سالانہ نو ملی میٹر کمی واقع ہو رہی ہے۔

سائنس دانوں کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر میلکم میک ملن کا کہنا ہے ’کرایوسیٹ کے مشاہدے سے ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ پچھلے تین برسوں میں انٹارکٹیکا کتنا تبدیل ہوا ہے اور کرایوسیٹ کے ذریعے پورے برِ اعظم کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔‘

کرایوسیٹ کو یورپی خلائی ایجنسی نے 2010 میں لانچ کیا تھا تاکہ قطب شمالی اور جنوبی میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر سکے اور اس مقصد کے لیے اس میں جدید ریڈار نصب کیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سائنسدان بہت عرصے سے مغربی انٹارکٹکا کے بارے میں فکر مند تھے کیونکہ وہاں پر برف پگھلنے کی رفتار بہت تیز ہے

اسی بارے میں