پلیز، کسی کو بتانا نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وہ زمانے لد گئے جب آپ انٹرنیٹ پر اپنی شناخت آسانی سے خفیہ رکھ سکتے تھے

جوں جوں انٹرنیٹ پر لوگوں کے لیے اپنی شناخت چُھپائے رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، انٹرنیٹ پر ایسی سہولتوں یا ایپلیکیشنز کی بھرمار ہوتی جا رہی ہے جن کا وعدہ ہے کہ وہ ہمیں انٹرنیٹ پر ایک مرتبہ پھر اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی سہولت دی سکتی ہیں۔

کیا واقعی یہ ایپلیکیشنز ہماری شناخت خفیہ رکھ سکتی ہیں؟

اے او ایل کے چیٹ روم کو یاد کیجیے۔ آپ وہاں جا کر اپنی پسند کے کسی بھی چیٹ روم میں اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے تھے اور آپ سے صرف یہی پوچھا جاتا تھا کہ ’آپ کی عمر، جنس کیا ہے اور آپ کہاں رہتے ہیں۔‘

زیادہ تر لوگوں کو انٹرنیٹ کی یہی خوبی پسند تھی کہ اس پر جا کر آپ خود کو کوئی بھی فرضی نام دے سکتے تھے، یعنی انٹرنیٹ کی دنیا وہ دنیا تھی جہاں آپ اپنا ہلکا پھُلکا تعارف کرانے کے بعد آگے اپنی بات کر سکتے تھے۔

لیکن آج کل ہماری جو شناخت انٹرنیٹ پر ہے وہ ہماری اصل زندگی اور ہمارے شب و روز سے مکمل جُڑ چکی ہے اور فیس بُک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام کے ذریعے آپ ہر وقت دوسرے لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری مصنوعی اور اصل شناختوں کے درمیان فاصلہ ختم ہو چکا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وقت گزر جانے کے بعد بھی آپ کے قدموں کے نشان انٹرنیٹ پر موجود رہتے ہیں۔

نئی ایپلیکیشنز نے ہماری شناخت کی فکر تو ختم کر دی لیکن اب لوگوں کو ایک نئے مسئلے کا سامنا ہے: کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ آپ انٹرنیٹ پر دل کھول کے اظہار کر سکیں اور آپ کو یہ خوف نہ ہو کہ اس پر آپ کی گرفت بھی ہو سکتی ہے؟

یہی وجہ ہے کہ کئی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اب انٹرنیٹ پر یہ سہولت دینے کا وقت آ گیا ہے کہ لوگ ایک مرتبہ پھر اپنی شناخت کو خفیہ رکھ سکیں۔ اگر ہم انٹرنیٹ کو شناخت سے مکمل عاری نہیں بنا سکتے تو کم از کم ہمیں یہ سہولت دینی چاہیے کہ اگر کوئی صارف اپنی شناخت خفیہ رکھنا چاہے تو وہ رکھ سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’میں نے اپنی بہتریندوست کے ساتھ رہنا شروع کر دیا تھا۔ مگر اب مجھے اُس سے نفرت ہونا شروع ہو گئی ہے‘

شناخت خفیہ رکھنے کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی ’وِسپرز‘ یا ’سرگوشیاں‘ کے بانی مائیکل ہیورڈ کہتے ہیں کہ آپ فیس بُک یا انسٹاگرام جیسی ویب سائٹس پر نظر ڈالیں آپ کو پتہ چل جائے گا ان سائٹس پر ہر کوئی یہی دکھانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ وہ کتنا اچھا لگ رہا ہے۔

’اس کے برعکس وِسپرز ہمیں یہ سہولت دیتا ہے کہ ہم انٹرنیٹ پر وہ باتیں بھی کہہ سکیں جنھیں ہم فیس بُک پر پوسٹ نہیں کرنا چاہتے، یعنی پردے کے پیچھے کی باتیں۔‘

وِسپرز صارفین کو یہ سہولت دیتا ہے کہ اس کی ایک ایپلیکیشن اپنے کمپیوٹر یا فون پر ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد آپ اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر کوئی بھی چیز پوسٹ کر سکتے ہیں، مثلاً ’ میرے یہ کپڑے کیسے ہیں؟ یا ’مجھے لگتا ہے کہ میں حادثے کے بعد کے ذہنی دباؤ کا شکار ہوں۔‘

اگر دوسرے صارفین کو آپ کے کپڑے اچھے لگے یا آپ کی لکھی ہوئی بات مزاحیہ لگی تو ’لائیک‘ کردیں گے اور یوں آپ کو پتہ لگ جائے گا ان کی رائے کیا ہے۔

مائیکل ہیورڈ کہتے ہیں کہ ’وِسپرز کی سہولت ایسے ہی ہے جیسے کیتھولک عیسائیوں کے ہاں اپنے اعمال کا اعتراف کرنے کی رسم۔ لیکن ہماری کنفیشن کی سہولت ہمارا کاروبار ہے۔‘

اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دوسال کے عرصے میں وِسپرز تین کروڑ 66 لاکھ ڈالر کا منافع کما چکی ہے۔

بڑا کاروبار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کبھی کبھی میں اچھی جگہوں سے ٹائلٹ پیپر چُرا کے لے آتی ہوں تا کہ مہمانوں کو پتہ نہ چلے کہ میں گھر میں سستے ٹشو لاتی ہوں۔

وِسپرز واحد کمپنی نہیں کہ جو اس موقعے سے فائدہ اٹھا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا کی ہماری ’اصل زندگیوں‘ میں اس قدر زیادہ دخل اندازی اور پھر ایڈورڈ سنوڈن کے اس انکشاف کے بعد کہ امریکی حکومت لوگوں کی سراغ رسانی کر رہی ہے، بہت سی کمپنیاں شناخت کو خفیہ رکھ سکنے کی سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ لوگوں کی گمنام رہنے کی خواہش انٹرنیٹ کمپنیوں کے لیے اچھا خاصا کاروبار بن سکتی ہے۔

’سِیکرٹ‘ کی بنیاد گذشتہ اکتوبر میں گُوگل کے دو سابق ملازموں کِرس بایڈر وِنچسٹر اور ڈیوڈ بِٹو نے رکھی تھی۔ کمپنی نے باقاعدہ کاروبار کا آغاز اس سال جنوری میں کیا اور چند ہی ماہ میں یہ ایک کروڑ 15 لاکھ ڈالر بنا چکی ہے۔ وِسپرز کے برعکس سیکرٹ کی ایپلیکیشن آپ کے فون میں موجود دوستوں کی فہرست کے ذریعے آپ کو دوستوں اور اُن کے دوستوں کی خفیہ تصاویر اور پیغامات تک رسائی دیتی ہے۔

سیکرٹ کی یہ ایپلیکیشن ریاست کیلیفورنیا کی سلیکان ویلی میں بہت زیادہ مقبول ہوئی جہاں لوگوں نے خفیہ چٹ پٹی باتیں پوسٹ کر کے خوب مزے لیے۔ ان رازوں میں مخلتف کمپنیوں کے اندر کے کاروباری راز بھی شامل تھے۔ مثلاً کس نئی کمپنی کو کون، کتنے پیسوں میں خرید رہا ہے۔

مسٹر بیڈر وِنچسلر کہتے ہیں کہ ایپلیکیشن بنانے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ لوگ مختلف کمپنیوں کے گھپلوں کو منظر عام پر لائیں، لیکن اب جبکہ صارفین ہماری ایپلیکیشن کے ذریعے ایسے گھپلوں کی خبروں کو انٹرنیٹ پر ڈالتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہماری ایپلیکیشن ایک اہم ضرورت کو پورا کر رہی ہے۔

کاروباری ہتھکنڈا

لیکن کسی بھی محکمے کے اندرونی گھپلوں کو منظر عام پر لانا اور آپ کوگمنام رہنے کی سہولت دینا، یہ دو مختلف باتیں ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی اور جمہوریت کے درمیان تعلق کا مطالعہ کرنے والے ’سینٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی‘ سے منسلک رونی ساندوِک کہتی ہیں کہ موبائل فون کے ذریعے کام کرنے والی ایپس کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ چھُپ نہیں سکتے:

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سوشل میڈیا پر ہر کوئی یہی دکھانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ وہ کتنا اچھا لگ رہا ہے: مائیکل ہیورڈ

’آپ کا فون آپ کسی نہ کسی طریقے سے آپ کی شناخت سے جُڑا ہوا ہوتا ہے اور آپ کا فون نمبر کم از کم اُس کمپنی کے پاس ضرور پہنچ جاتا ہے جس کی ایپلیکیشن آپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے اگرچہ ایسی ایپلیکشنز بیچنے والی کمپنیاں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ آپ کے ذاتی کوائف ان کے پاس محفوظ رہیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ چاہے تو کمپنی آپ کے کوائف اس ادارے کو دینے کی پابند ہوگی۔‘

اس لیے مِس ساندوِک کہتی ہیں کہ اگر دیکھا جائے تو کمپنیوں کا یہ نعرہ کہ ان کی ایپلیکشن استعمال کر کے آپ کی شناخت خفیہ رہ سکتی ہے، اصل میں ایپلیکیشن بیچنے کا ایک بہانہ یا ’کاروباری ہتھکنڈا‘ ہے کیونکہ ’آپ اپنی ایپلیکیشن کے اشتہار میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسے استعمال کرنے سے آپ آدھے خفیہ تو رہیں گے اور آدھے نہیں رہیں گے۔‘

اسی بارے میں