پہلا بنا تار پیس میکر خرگوش کے جسم میں نصب

Image caption اگر یہ ٹرانسپلانٹ انسانی جسم میں کامیاب ہوتا ہے تو سائز میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اسے نصب کرنا آسان ہوگا

امریکی محقیقین نے ایک جدید ترین وائرلیس پیس میكر تیار کیا ہے جو محض ایک چاول کے دانے جتنا بڑا یعنی تقریبا تین ملی میٹر ہے۔

سائنسدانوں نے اس پیس میکر کو ایک خرگوش کے جسم میں نصب کیا ہے۔

سائنسدانوں نے خرگوش کی چھاتی سے چند سینٹی میٹر اوپر ایک میٹل پلیٹ لگايا ہے جس کے سہارے خرگوش کی دل رفتار کو کنٹرول رکھنا ممکن ہوگا۔

اگر یہ ٹرانسپلانٹ انسانی جسم میں کامیاب ہوتا ہے تو سائز میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اسے نصب کرنا آسان ہوگا۔

یہ تحقیق امریکی جرنل ’پرسڈگ آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے امید ظاہر کی ہے کہ نئے آلات سے موجودہ دستیاب پیس میكر کی بھاری بھرکم بیٹری اور اسے ری چارج کرنے کے کام سے چھٹکارا ملے گا۔

بتایا گیا ہے کہ نیا پیس میکر کے لیے اتنی ہی توانائی درکار ہے جتنی ایک موبائل فون کے لیے درکار ہوتی ہے۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی کے الیکٹریکل انجینئرنگ شعبہ کے پروفیسر اور تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر ایڈا پون نے کہا، ’ہمیں اس طرح کے آلات کو بہتر سے بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اسے جسم کے اندر آسانی سے نصب کیا جا سکے۔‘

اسی بارے میں