’زنانہ ناموں والے طوفان دُگنے ہلاکت خیز‘

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زنانہ ناموں والے طوفانوں مردانہ ناموں والے طوفانوں کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ ہلاکتوں کا باعث بنتے ہیں

امریکہ میں محققین کا کہنا ہے کہ خواتین کے ناموں والے طوفان مردوں کے ناموں والے طوفانوں سے زیادہ تباہی مچاتے ہیں۔

تحقیق کاروں کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ لاشعوری طور پر عوام خواتین کے ناموں والے طوفانوں کو قدرے کم خطرناک سمجھتے ہیں اور ان کے کم احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔

گذشتہ چھ دہائیوں میں امریکہ میں طوفانوں کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کا جائزہ لیتے ہوئے محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ زنانہ ناموں والے طوفان مردانہ ناموں والے طوفانوں کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہلاکتوں کا باعث بنتے ہیں۔

سائنس دانوں نے تجویز پیش کی ہے کہ طوفانوں کے نام رکھنے کے نظام کو تبدیل کیا جائے تاکہ احتیاطی تدابیر کے حوالے سے لاشعوری طور پر ہونے والے جنسی تضاد ختم کیا جا سکے۔

امریکہ میں طوفانوں سے نمٹنے کے ادارے یو ایس ہریکین سنٹر کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ہر طوفان کی وجہ سے لاحق خطرے پر توجہ دینی چاہیے، قطع نظر اس کے کہ اس کا نام سیم ہے یا سمینتھا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں ڈینور میں امریکن فزیکل سوسائٹی کے اجلاس میں ایک امریکی ماہر طبعیات کا کہنا تھا کہ امریکہ کے جن حصوں میں تیز رفتار ہوا کے بگولے عام ہیں ان علاقوں میں تین بلند دیواریں تعمیر کرنے سے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔

ٹیمپل یونیورسٹی فلاڈیلفیا کے پروفیسر رونگجیا تاؤ کا کہنا ہے کہ 980 فٹ بلند اور 100 میل لمبی تین دیواروں سے ہوا کی شدت اور رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے اور اس طرح بگولے بننے سے قبل ہی ہوا کی شدت میں کمی واقع ہو جائےگی۔

پروفیسر تاؤ کا کہنا ہے ’ایک دیوار نارتھ ڈکوٹا، ایک کینسس اور اوکلاہوما کی سرحد پر اور تیسری دیوار جنوبی ٹیکسس اور لوزیانا میں بنانے سے ہم اس علاقے میں ہوا کے بگولوں کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے کم کر سکتے ہیں۔‘

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تجویز ناقابل عمل ہے اور اس سے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھ جائیں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دیواریں اس علاقے میں قصبوں کو محفوظ نہیں بنائیں گی کیونکہ ان ہوا کے بگولوں کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ دیواریں جنوبی گرم ہواؤں اور شمالی ٹھنڈی ہواؤں کو ملنے سے روکیں گی جس کے باعث ہوا کے بگولے بنتے ہیں۔

امریکہ میں ہر سال روکی اور ایپلیچیئن پہاڑی سلسلوں کے علاقے میں سینکڑوں بگولے تباہی مچاتے ہیں۔

اسی بارے میں