’میگا ارتھ‘ نامی سیاروں کی نئی قسم دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ na
Image caption اس نودریافت شدہ سیارے کا قطر 29000 کلومیٹر معلوم ہوا ہے جو زمین کے قطر سے دگنا سے بھی زیادہ ہے

سیاروں کی ایک نئی قسم دریافت کی گئی ہے جسے ماہرینِ فلکیات نے ’میگا ارتھ‘ کا نام دیا ہے۔ میگا ارتھ ان سیاروں کو کہا جاتا ہے جن کی سطح ہماری زمین کی طرح ٹھوس ہوتی ہے تاہم ان کا حجم زمین سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔

سیاروں کی اس نئی درجہ بندی کی ضرورت اس وقت محسوس کی گئی ہے جب زمین کی طرح کا ہی ایک اور سیارہ دریافت کیا گیا ہے جس کا حجم زمین کے مقابلے میں 17 گنا زیادہ ہے۔

کیپلر 10 سی نامی یہ سیارہ ایک ایسے سورج کے مدار میں گردش کر رہا ہے جو ہم سے تقریباً 560 نوری سال دور ہے۔ سائنس دانوں نے شہر بوسٹن میں امریکی خلائی سوسائٹی کے اجلاس میں اس سیارے کی تفصیلات بتائیں۔

تاہم انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ اس سیارے کے بارے میں بہت سے معاملات ان کی سمجھ میں نہیں آ رہے۔ بہت سے سائنس دانوں کا آج تک یہی خیال رہا ہے کہ اتنے بڑے حجم کے سیارے اپنی کشش ثقل کی وجہ سے اتنی ہائیڈروجن گیس جمع کر لیں گے کہ وہ ہمارے نظامِ شمسی کے سیاروں نیپٹیون یا مشتری جیسے ہو جائیں گے۔

ہارورڈ سمتھسونیئن سنٹر فار ایسٹروفزکس کے پروفیسر دمیتر ساسیلوف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کو پکارنے کا درست طریقہ ہے سپر ارتھ سے بڑی چیز، چلیں میگا ارتھ کر لیں۔‘ انھوں نے اس سیارے کے لیے ’گاڈزیلا آف ارتھس‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے۔

کیپلر 10 سی نام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سیارے کی دریافت امریکی خلائی ایجنسی کی کیپلر خلائی دور بین کے ذریعے کی گئی ہوگی۔

یہ دور بین مختلف ستاروں کی روشنی میں معمولی سی کمی کی مدد سے ان کے سامنے سے گزرنے والے سیاروں کو دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

اس طریقے سے نئے دریافت کیے گئے اس سیارے کا قطر 29000 کلومیٹر معلوم ہوا ہے جو کہ زمین کی چوڑائی سے دگنا سے بھی زیادہ ہے، تاہم اس کی کمیت کا پتہ نہیں چلا۔

کسی سیارے کی کمیت معلوم کرنے کے لیے ماہرینِ فلکیات کنیری آئی لینڈز میں ہارپس نارتھ انسٹرومنٹ استعمال کرتے ہیں۔ یہ دوربین سیارے اور اس کے سورج کے درمیان کششِ ثقل کو ناپ کر سیارے کی کمیت معلوم کر سکتی ہے۔

قطر اور کمیت کو ملا کر معلوم یہ ہوا ہے کیپلر 10 سی گیس کا نہیں بلکہ انتہائی ٹھوس مواد کا بنا ہوا ہوگا۔

اسی بارے میں