انٹرنیٹ پر بچوں کی فحش تصاویر کا کاروبار ایک وبا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ کی داخلہ سکیورٹی کے محکمے نے گذشتہ سال انٹرنیٹ پر بچوں کے جنسی استحصال کے 4000 سے زائد کیسوں کی تحقیقات شروع کیں

بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے کام کرنے والے عالمی ایجنسی ورچوئل گلوبل ٹاسک فورس کی سربراہ نے کہا کہ ہے انٹر نیٹ پر بچوں کی فحش تصاویر کے کاروبار نے وبائی شکل اختیار کی ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک کے پولیس افسران اس ورچوئل گلوبل ٹاسک فورس کے لیے خدمات سرانجام دیتے ہیں۔

اس ٹاسک فورس کی چیئرپرسن آئن کوئین نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی حکام بچوں کی فحش تصاویر کے کیسوں کی ایک بڑی تعداد سے نمٹ رہی ہے۔

صرف امریکہ میں انٹرنیٹ کرائمز اگینسٹ چلڈرن یا انٹر نیٹ پر بچوں کے خلاف جرائم کے روک تھام کی 61 یونٹ کام کر رہی ہیں جو مقامی پولیس اور وفاقی اہلکاروں پر مشتمل ہوتی ہے۔

لاس اینجلس پولیس نے ایک حالیہ سرچ آپریشن کے دوران ایک شخص کو گرفتار کیا جس پر اپنے جی میل اکاؤنٹ کے ذریعے بچوں کی فحش تصاویر بھیحنے کی کوشش کرنے کا الزام تھا۔

لاس اینجلس پولیس ڈیپارٹمنٹ کی لیفٹیننٹ اندرے گراسمین نے بتایا کہ ’ہم ہفتے میں تین سے پانچ دفعہ اس قسم کے آپریشن کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’انٹر نیٹ پر بچوں کی استحصال کی تصاویر پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے اور ہم صرف اس کی سطح تک پہنچ رہے ہیں۔‘

امریکہ کی داخلہ سکیورٹی کے محکمے نے گذشتہ سال انٹرنیٹ پر بچوں کے جنسی استحصال کے 4000 سے زائد کیسوں کی تحقیقات شروع کیں۔

ٹاسک فورس کی چیئر پرسن آئن کوئین کہتی ہیں کہ ’دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جو اس جرم سے بچ سکے۔‘

لیفٹیننٹ اندرے گراسمین کا کہنا ہے کہ پیڈو فائل یا بچوں سے جنسی تعلق رکھنے والے افراد دنیا بھر میں بچوں کی فحش تصاویر کا کاروبار کرتے ہیں جس کے لیے عالمی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کی ضرورت ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’آپ کا مشتبہ شخص ہمار مشتبہ شخص ہے، آپ کے متاثرین ہمارے متاثرین ہیں۔‘

اس سال کے اوائل میں اپنے برطانیہ کے دورے کے دوران گراسمین نے ملک بھر سے 100 جاسوسوں کو تربیت دی تھی۔

اس سلسلے میں امریکہ اور برطانیہ کے درمیان تعاؤن کی وجہ سے بڑے ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔ اس سال کے اوائل میں ایک برطانوی شخص مارک لیوزکومبے کو امریکہ میں شروع کیے گئے آپریش کی وجہ سے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔

انٹر نیٹ پر بچوں کی جنسی استحصال کرنے والے افراد کو پکڑنے کے لیے امریکہ کی داخلہ سکیورٹی کا محکمۂ انٹر نیٹ پر اپنے انڈر کور افسروں کو تعینات کرتی ہے جو بچوں کو کے ساتھ جنسی خواہش رکھنے والے افراد کو پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔

خصوصی ایجنٹ کیون لاز گذشتہ دس سال سے اس قسم کا کام کر رہے ہیں اور وہ ابھی تک 60 افراد کو گرفتار کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں