اقوامِ متحدہ کا ہفتۂ تحفظِ جنگلات

Image caption اقوامِ متحدہ میں عالمی ہفتہ برائے جنگلات کے آغاز میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ وقت ہے کہ توجہ درختوں سے انسانوں کی جانب موڑی جائے

اقوامِ متحدہ کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ دنیا کے جنگلات انسانیت کے فائدے اور بقا کے لیے بنیادی ضرورت ہیں۔

خوراک اور زراعت کی تنظیم میں محکمۂ جنگلات کی ڈائریکٹر ایوا مولیر کے بقول درخت خوراک، ایندھن اور آمدنی کا براہِ راست ذریعہ ہیں۔

جنگلات کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ حیاتیاتی نظام میں تنوع کا تقریباً 80 فیصد جنگلات میں ہوا کرتا تھا۔

جنگلات کے بارے میں رپورٹ اٹلی کے شہر روم میں ہونے والے اجلاس میں پیش کی گئی۔

ایوا مولیر کا کہنا ہے کہ جنگلات سے حاصل ہونے والی خوراک جس میں پھل، میوے، مشرُوم، پتے، جڑیں، حشرات اور جنگلی جانور شامل ہیں جو دیہاتی لوگوں کو غذا فراہم کرتے ہیں اور مشکل وقت میں کام بھی آتے ہیں۔

ایوا مولیر کا کہنا تھا: ’جنگلات، درخت، کھیت ہماری خوراک، غذائیت اور مویشیوں کے لیے کئی طریقوں سے مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ خوراک، ایندھن اور آمدنی کا براہِ راست ذریعہ بھی ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رپورٹ میں محفوظ خوراک اور غذا کے حوالے سے بھی جنگلات کی اہمیت اجاگر کی گئی

’یہ خود جنگلات کے مکینوں کے لیے بھی ضروری ہیں جن میں قبائلی افراد بھی شامل ہیں۔‘

اقوامِ متحدہ میں عالمی ہفتۂ تحفظِ جنگلات کے آغاز میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ وقت ہے کہ توجہ درختوں سے انسانوں کی جانب موڑی جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا: ’دنیا بھر میں جنگلات، فارموں میں لگے درخت اور ایگرو فارسٹری کا نظام دیہاتی لوگوں کے مویشیوں کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ذریعے انھیں ایندھن، غذا اور کئی دوسری اشیا ملتی ہیں۔‘

’ان میں ایک ترقی اور سرسبز معیشت کے قیام میں تعاون کرنے کی بھرپور صلاحیت ہوتی ہے۔ تاہم اس کے واضح ثبوت ابھی میسر نہیں۔‘

رپورٹ کے مصنف نے لکھا ہے کہ جنگلات کے شعبے سے حاصل ہونے والی باضابطہ آمدن عالمی معیشت کا 0.9 فیصد ہے۔ تاہم بلاضابطہ آمدن (لکڑیوں سے حاصل ہونے والا ایندھن، تعمیراتی مواد، خوراک وغیرہ) کے لیے جنگل کاٹے جاتے ہیں اور ان سے دنیا بھر کی معیشت کا 1.1 فیصد حاصل ہوتا ہے۔

روز گار کے حوالے سے دیکھا جائے تو باضابطہ طور پر یہ جنگلات ایک کروڑ 32 لاکھ ملازمتیں تخلیق کرتے ہیں اور اندازاً چار کروڑ دس لاکھ مویشی اس شعبے پر انحصار کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں محفوظ خوراک اور غذا کے حوالے سے بھی جنگلات کی اہمیت اجاگر کی گئی۔

ایندھن کی بات کی جائے تو دنیا کی آبادی کا ایک تہائی اب بھی لکڑی سے حاصل ہونے والے ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔

اسی بارے میں