صارفین پر نفسیاتی تجربہ کرنے پر فیس بک کو تنقید کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ PRESS ASSOCIATION
Image caption یہ نفسیاتی تجربہ سنہ 2102 میں ایک ہفتے کے دوران فیس بک کے 689000 صارفین پر کیا گیا تھا

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کو اس وقت سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جب سے یہ پتہ چلا ہے کہ اس نے اپنے تقریباً سات لاکھ صارفین پر نفسیاتی تجربہ کیا ہے۔

اس تجربے میں فیس بک نے نیوز فیڈ اور پوسٹوں کو ’اس انداز میں الٹ پلٹ‘ کیا کہ صارفین کے جذباتی اظہار پر کنٹرول کر سکے۔

یہ تحقیق دو امریکی یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر کی گئی تھی جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ بعض جذباتی معلومات کے بعد لوگ اپنے پوسٹ کرنے کے طور طریقے میں کیا تبدیلی لاتے ہیں۔

فیس بک نے اس تجربے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس میں لوگوں کے غیر ضروری اعداد و شمار حاصل کرنا شامل نہیں تھا۔‘

اس نے مزید کہا کہ ’اس میں ایسے اعداد و شمار استعمال نہیں کیے گئے جو کسی مخصوص شخص کے فیس بک اکاؤنٹ سے لیے گئے ہوں۔‘

کورنیل یونیورسٹی اور سان فرانسسکو میں قائم کیلیفورنیا یونیورسٹی اس تحقیق میں شامل تھیں۔

تاہم بعض لوگوں نے فیس بک کو تحقیق کے طریقۂ کار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس طرح کی تحقیق کے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مائیکرو سافٹ کی معروف تحقیق کار کیٹ کرافورڈ نے کہا کہ ’ہم فیس بک کے تجربے کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز پر اخلاقیات، قوت اور رضامندی کے متعلق وسیع پیمانے پر ناکامی سے تعبیر کر سکتے ہیں۔‘

لارین ویئنسٹین نے ٹویٹ کیا: ’فیس بک اپنے صارفین پر پوشیدہ طور پر تجربہ کرتا ہے اور انھیں غمگین کرتا ہے جو بری بات ہے۔‘

واضح رہے کہ یہ تجربہ سنہ 2102 میں ایک ہفتے کے دوران فیس بک کے 689000 صارفین پر کیا گیا تھا۔

اس میں نیوز فیڈ کے ساتھ ’شاطرانہ انداز میں چھیڑ چھاڑ‘ کی گئی تھی۔

اس تحقیق میں یہ پتہ چلا کہ جن لوگوں کو منفی خبریں کم تعداد میں پہنچتی ہیں وہ منفی پوسٹیں کم لکھتے ہیں اور اس کے برعکس بھی درست ہے۔

اس رپورٹ کے شریک مصنف فیس بک کے ایڈم کریمر نے کہا کہ ’ہمارے لیے یہ دیکھنا اہم تھا کہ کہیں اپنے کسی دوست کے مثبت پہلو کو دیکھ کر لوگ اچھا محسوس نہیں کرتے ہیں اور فیس بک چھوڑ دیتے ہیں۔

’ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے تھے کہ کہیں دوست کے منفی پہلو کو دیکھ کر تو لوگ فیس بک چھوڑ کر نہیں جا رہے ہیں۔‘

تاہم انھوں نے یہ اعتراف کیا کہ ’کمپنی نے رپورٹ میں واضح انداز میں اپنا مدعا بیان نہیں کیا۔‘

اسی بارے میں