مانع حمل ریموٹ کنٹرول مائیکرو چِپ کے ذریعے

تصویر کے کاپی رائٹ Divulgacao
Image caption اگلے سال امریکہ میں اس چِپ کے تجربات کیے جائیں گے اور امید کی جا رہی ہے کہ سنہ 2018 میں اس کی فروخت کا آغاز ہو جائے گا

امریکی ریاست میساچیوسٹس میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مانع حمل کے لیے ریموٹ سے کنٹرول کی جانے والی کمپیوٹر چِپ تیار کر لی گئی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ چِپ عورت کی جلد کے اندر نصب کی جائے گی اور اس سے کم پیمانے پر ہارمون کا اخراج ہوتا رہے گا۔

یہ عمل 16 سال تک روزانہ ہوتا رہے گا لیکن اسے ریموٹ کے ذریعے کسی بھی وقت روکا جا سکے گا۔

اس پراجیکٹ کی پشت پناہی مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کر رہے ہیں اور اگلے سال امریکہ میں اس چِپ کے تجربات کیے جائیں گے اور امید کی جا رہی ہے کہ سنہ 2018 میں اس چِپ کی فروخت کا آغاز ہو جائے گا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ چِپ نہایت چھوٹی ہے اور اس کی قیمت زیادہ نہیں ہو گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ہارمون کو 1.5 سینٹی میٹر چوڑی مائیکرو چِپ میں ڈال کر ڈیوائس میں رکھ دیا جائے گا۔

عورت کی جلد میں نصب ہونے کے بعد ایک چھوٹا سا کرنٹ ہارمون لیوو نارجیسٹرول کے گرد موجود جھلی کو پگھلا دے گا، جس سے ہارمون کی 30 مائیکرو گرام ہارمون جسم میں داخل ہو جائے گی۔

مانع حمل کے لیے تیار کرنے والی چِپ کے خالقوں کا کہنا ہے کہ اسی طرح کی دیگر ڈیوائس پہلے ہی سے موجود ہیں اور استعمال کی جاتی ہیں لیکن ان کا عمل رکوانے کے لیے دوبارہ ہسپتال جانا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے پر اس چپ کو ریموٹ کنٹرول کی مدد سے روکا جا سکتا ہے۔

میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ڈاکٹر رابرٹ فارا کا کہنا ہے: ’وہ لوگ جو خانانی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ان کے لیے یہ آسان بات ہے کہ اس چِپ کو خود ہی آن یا آف کر سکیں۔‘

سائنس دانوں کے لیے ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی اور فرد اس چِپ کو کنٹرول نہ کر سکے۔

ڈاکٹر فارا نے کہا: ’اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یہ چِپ صرف اسی وقت آن یا آف ہو جب ریموٹ کو جلد سے لگا کر استعمال کیا جائے، اور دوسرے کمرے میں بیٹھا کوئی شخص ریموٹ کے ذریعے اس چِپ کو کنٹرول نہ کر پائے۔‘

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہی ٹیکنالوجی دیگر ادویات دینے کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔

اسی بارے میں