امریکہ: وبائی امراض کی لیب میں نمونوں کے ساتھ بے احتیاطی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ میں وبائی جرثوموں کے نمونوں کے ساتھ لا پرواہی برتنے کے لیے دو تجربہ گاہوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے

امریکی حکومت کی وبائی بیماریوں کی تجربہ گاہوں نے گذشتہ دہائی میں کم از کم پانچ بار بیماری پھیلانے والے خطرناک جراثیم کے انتظام میں بدنظمی برتی ہے۔

صرف رواں سال متعلقہ ملازموں نے اینتھریکس اور انتہائی تیزی سے پھیلنے والے مرض H5N1 کو ٹھیک سے ہینڈل نہیں کیا۔

اس کا نوٹس لیتے ہوئے بیماریوں کی روک تھام کے مراکز سی ڈی سی نے اس غلطی میں ملوث دو لیب یعنی تجربہ گاہوں کو بند کر دیا ہے۔

ایجنسی نے عارضی طور پر ہائی سکیورٹی والی تجربہ گاہوں کو بیماری پھیلانے والے خطرناک جراثیم کی منتقلی پر پابندی بھی لگا دی ہے۔

بہر حال سی ڈی سی کے حکام نے کہا ہے کہ ابھی تک ان لاپروائیوں کی وجہ سے کسی کے بیمار پڑنے کی رپورٹ نہیں ہے اور اینتھریکس سے روبرو ہونے والے کسی بھی فرد نے بیماری کی شکایت نہیں کی ہے۔

سی ڈی سی کے ڈائرکٹر ٹام فرائڈنے نے جمعے کو اخباری نمائندوں سے کہا: ’اس طرح کا واقعہ کبھی رونما نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مجھے بہت مایوسی ہوئی ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ میں اس پر نالاں ہوں کہ یہاں ایسا بھی ہو سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اینتھریکس بیکٹریا کا نمونہ

ان واقعات کو جون میں اینتھریکس سے روبرو ہونے کی فہرست میں درج کیا گيا ہے اور یہ اس وقت ہوا جب ایک اعلیٰ سطحی تحقیقی تجربہ گاہ نے ضابطے کی پابندی نہیں کی اور بیکٹریا کو منجمد یا بے حرکت نہیں کیا۔

اس کے بعد یہ نمونے ایجنسی کے کم تحفظ والے ایٹلانٹا کیمپس کی تجربہ گاہ میں منتقل کر دیے گئے۔

رپورٹ میں کہا کیا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب سی ڈی سی میں ایسا ہوا ہے اور نہ ہی یہ تجربہ گاہ میں پہلی بار ہوا ہے۔

سی ڈی سی کو حال ہی میں مئی کے مہینے میں ایک دوسرے واقعے کا علم ہوا جس میں ایوین فلو یا برڈ فلو (چڑیوں کے بخار) والے نمونے کو دوسرے بیماری پھیلانے والے خطرناک جرثوموں سے آلودہ کر دیا گیا۔

اس کے لیے انفلوئنزا لیب اور بایوٹیرر رسپانس لیب کو عارضی طور پر بند کر دیا گيا۔

اسی بارے میں