’ایلزہائمرز کے ایک تہائی کیسز کو روکا جا سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ HINKSTOCK
Image caption ایلزہائمرز کے علاج کے لیے ہونے والی تحقیق ناکامیوں کا شکار رہی ہے۔ سنہ 2002 سے سنہ 2012 کے دوران ایلزہائمرز کو روکنے یا اسے ختم کرنے کے لیے کیے جانے والے 99.6 فیصد تجربات ناکام ہوئے

یونیورسٹی آف کیمبرج کی ایک تحقیق کے مطابق ایلزہائمرز بیماری کے ہر تین میں سے ایک ایسا کیس ہوتا ہے جس میں اس بیماری کو روکا جا سکتا تھا۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے پیدا ہونے میں ورزش کی کمی، تمباکو نوشی، ڈپریشن اور غیر معیاری تعلیم کا اہم کردار ہوتا ہے۔

اس سے پہلے 2011 میں ایک تحقیق میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ ہر دو میں سے ایک ایسے کیس کو روکا جا سکتا ہے تاہم نئی تحقیق میں دیگر وجوہات کو بھی زیرِ غور لایا گیا ہے۔

تاہم ایلزہائمرز ریسرچ یو کے کا کہنا ہے کہ اب بھی اس بیماری میں سب سے بڑا عنصر عمر ہے۔

جریدے لانسٹ نیورولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں آبادی کی معلومات جمع کر کے ایلزہائمرز کے سات مرکزی عناصر دریافت کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ سات اہم عناصر مندرجہ ذیل ہیں:

ذیابیطس، زیادہ بلڈ پریشر، موٹاپا، ورزش کی کمی، ڈپریشن، تمباکو نوشی اور غیر معیاری تعلیم۔

تحقیق کار اس نتیجے پر پہنچے کہ اس بیماری کے کیسز میں سے ایک تہائی کو بہتر طرزِ زندگی سے روکا جا سکتا ہے جیسے کہ ورزش کرنا اور تمباکو نوشی سے پرہیز کرنا۔

اس کے بعد محققین نے اس بات پر غور کرنا شروع کیا کہ مستقبل میں اس بیماری کو کم کیسے کیا جا سکتا ہے۔ انھیں پتا چلا ہے کہ بیماری کی ہر ممکنہ وجہ میں دس فیصد کمی سے 2050 تک نوے لاکھ نئے کیسز کو روکا جا سکتا ہے۔

برطانیہ میں ان وجوہات میں دس فیصد کمی کی وجہ سے 2050 تک دو لاکھ کیسز میں کمی آئے گی۔

حالیہ اندازوں کے مطابق 2050 تک دنیا بھر میں 106 ملین افراد اس مرض کا شکار ہوں گے جو کہ 2010 کے مقابلے میں تین گنا ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کی کیرل برین کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ اس بیماری کا علاج کرنے کا کوئی ایک حل نہیں ہے تاہم اس کے امکان کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔‘

’ہمیں معلوم ہے کہ اس کی وجوہات کیا ہے اور عموماً وہ ایک دوسرے سے منسلک ہوتی ہیں۔‘

اسی بارے میں