امریکہ میں ایچ آئی وی وائرس میں ایک تہائی کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ایچ آئی وی وائرس ایڈز کے مرض کا ذمہ دار ہے جو کہ انسان کے مدافعیاتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے

محققین کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس سالوں میں امریکہ میں ایچ آئی وی انفیکشن کی تشخیص میں تقریباً ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔

مکمل 50 ریاستوں سے ملنے والے کیسز کی تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ 2011 میں ہر ایک لاکھ افراد میں سے 16.1 اس وائرس سے متاثر ہیں جبکہ 2002 میں یہ شرح 24.1 تھی۔

ماہرین نے ان اعداد و شمار کا خیر مقدم کیا، انھیں امید ہے کہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں ایڈز کا پھیلاؤ کم ہو رہا ہے۔

تاہم 24 سال سے کم اور 45 سال سے زیادہ عمر کے ہم جنس پرست مردوں میں نئے ایچ آئی وی کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

ایچ آئی وی وائرس ایڈز کے مرض کا ذمہ دار ہے جو کہ انسان کے مدافعیاتی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنازیشن کے تخمینے کے مطابق دنیا میں ساڑھے تین کروڑ افراد میں یہ وائرس پایا جاتا ہے۔ امریکہ میں تقریباً دس لاکھ افراد میں یہ وائرس پایا جاتا ہے جن میں سے 18 فیصد اس کے بارے میں لاعلم ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق 2002 سے 2011 تک امریکہ میں 493372 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔

مجموعی طور پر اس وائرس میں کمی کے علاوہ مردوں، خواتین، سفید فام، سیاہ فام، ہسپانوی، دگر جنسی افراد اور انجیکشن کی مدد سے منشیات کا استعمال کرنے والے تمام گروہوں میں اس حوالے سے کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرست مردوں میں اس وائرس کی تشخیص کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

تحقیق کے مطابق اس مرض کی ٹیسٹنگ میں اضافے کے باوجود یہ کمی دیکھی گئی ہے۔

2006 میں امریکہ محکمہِ صحت نے تمام 13 سے 64 سال کے شہریوں میں اس حوالے سے بارہا ٹیسٹ کروانے کی تجویز دی تھی۔

سی ڈی سی کے اعداد و شمار کے مطابق ٹیسٹ کیے گئے افراد میں سے سنہ 2000 میں وائرس والے افراد کی شری 37 فیصد تھی جبکہ 2010 میں یہ شرح 45 فیصد ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اس وائرس کے پھیلاؤ میں کمی کی وجوہات معلوم نہیں ہیں تاہم یہ دنیا بھر کے رجحان سے مطابقت رکھتا ہے۔

گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں 2013 میں نئے ایچ آئی وی انفیکشنز کی تعداد 21 لاکھ تھی۔

اسی بارے میں