ایک بچے کے تین والدین؟

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption مخالفین کو خدشہ ہے اس نئی ٹیکنالوجی سے کہیں برطانیہ میں ’ڈیزائنر بچے‘ کرنے کا رجحان نہ شروع ہو جائے

برطانیہ کے محکمۂ صحت کے مطابق تین لوگوں کے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی ٹیکنالوجی کو کافی حد تک عوام کی حمایت حاصل ہے۔

لیکن پارلیمان میں اس منصوبے کو پیش کرنے سے پہلے کئی سائنسی اور تکنیکی تفصیلات کو حتمی شکل دینی ہو گی۔

فی الحال یہ طریقہ خلیے کے اندر پائے جانے والے جسم مائٹوکانڈریا کی بیماریوں کے علاج تک محدود رہے گا۔ یہ بیماری برطانیہ میں ہر سال ساڑھے چھ ہزار میں سے ایک بچے کو متاثر کرتی ہے اور اس سے پٹھوں کی کمزوری، اندھاپن اور دل کی بیماری ہو سکتی ہے۔

تین لوگ مل کر ایک بچہ پیدا کریں گے

نیوکاسل یونیورسٹی کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ والدین کے سپرم اور بیضے کے علاوہ ایک ڈونر عورت کے اضافی بیضے کے امتزاج سے پیدا ہونے بچے میں اس قسم کی بیماری کو روکا جا سکتا ہے۔

ماہر سائنس دانوں کے ایک پینل کے مطابق اس وقت کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں ہے جس سے ظاہر ہو کہ یہ طریقۂ کار غیر محفوظ ہے لیکن انھوں نے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ مزید تحقیقات کی جائیں۔

اس منصوبے کو قانونی حیثیت دینے سے پہلے حکومت دیگر تفصیلات کا انتظار کر رہی ہے جو توقع ہے کہ اگلے چند مہینوں میں سامنے آ جائیں گی۔

وزرا اس بات پر متفق ہیں کہ نگرانی کرنے والا عہدہ ’ہیومن فرٹیلائزیشن ایمبریولوجی اتھارٹی‘ والدین کی طرف سے آنے والی درخواستوں کو غور سے جانچیں گے۔

کوئی بھی بچہ جو اس طریقے سے پیدا ہو گا اپنے ڈونر کی شناخت نہیں معلوم کر سکے گا۔ یاد رہے کہ ان بچوں کے پاس اپنے دونوں والدین کا ڈی این اے ہو گا اور مزید ایک فیصد ڈی این اے ان کے ڈونر سے ہو گا۔

تاہم اس طریقے کے مخالفین کا ماننا ہے کہ یہ غیر اخلاقی ہے اور اس سے برطانیہ میں ’ڈیزائنر بچے‘ بنانے کا رحجان بڑھ سکتا ہے۔

اسی بارے میں