چھ سیکنڈ کی ورزش کتنی مفید؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس طرح کی ورزش سے عمر رسیدہ افراد کی صحت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اخراجات کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے

سکاٹ لینڈ میں محققوں نے ایک نئی تحقیق سے یہ اندازہ لگایا ہے کہ چھ سیکنڈ کی ورزش عمر رسیدہ افراد کی صحت بہتر بنا سکتی ہے۔

سکاٹ لینڈ کی ابرٹے یونیورسٹی کی جانب سے 12 لوگوں پر کی گئی اس تحقیق میں عمر رسیدہ افراد کو کم دورانیے کے لیے ورزش کروائی گئی جس سے نہ صرف ان کا بلڈ پریشر بہتر ہوا بلکہ مجموعی طور پر بھی ان کی صحت میں فرق آیا۔

یونیورسٹی کے محققوں کا کہنا ہے کہ اس سے عمر رسیدہ افراد کی صحت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اخراجات کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

تحقیق سے یہ بھی پتہ لگا ہے کہ ورزش ہر عمر کے افراد کے لیے مفید ہے۔ محققوں کے مطابق کم دورانیہ میں تیز ورزش، جسے ہائی انٹینسٹی ٹریننگ بھی کہا جاتا ہے، کے فوائد باقاعدہ طور پر کی جانے والی ورزش جتنے ہی ہیں۔

تاہم ہائی انٹینسٹی ٹریننگ سے یہ فوائد آپ کو کم دورانیے میں ملتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’بیٹھے رہنے کا عمل دل کی بیماریوں اور ذیابیطس کا جواز بن جاتا ہے لیکن اگر انسان چلتا پھرتا رہے تو اس خطرے کو روکا جاسکتا ہے‘

یونیورسٹی کیطرف سے کی جانے والی یہ تحقیق چھ ہفتوں میں کی گئی جس میں ہر ہفتے عمر رسیدہ افراد دو بار لیبارٹری میں آتے اور چھ سیکنڈ تک برق رفتاری سے ورزش کرنے والی سائیکل چلاتے۔ جس کے بعد انھیں کچھ منٹوں کا وقفہ دیا جاتے اور اس کے بعد وہ دوبارہ چھ سیکنڈ کے لیے سائیکل پر سوار ہوتے۔

یہ عمل تب تک چلتا رہتا جب تک کے ایک آدمی مجموعی طور پر ایک منٹ کی ورزش مکمل نہیں کرلیتا۔

تحقیق میں شامل ڈاکٹر جان ببراج کا کہنا ہے کہ ’ہمیں بڑھتی ہوئی عمر والی آبادی کا سامنا ہے اور اگر ہم نے ان کو ورزش کی طرف راغب نہیں کیا تو ان کی صحت پر آنے والے اخراجات کمر توڑ ہونگے‘۔

ڈاکٹر ببراج کے مطابق بیٹھے رہنے کا عمل دل کی بیماریوں اور ذیابیطس کا جواز بن جاتا ہے لیکن اگر انسان چلتا پھرتا رہے تو اس خطرے کو روکا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس عمل سے لوگوں کو سماجی طور پر بھی فعال رہنے میں مدد ملتی ہے۔

اسی بارے میں