ملیریا کے خلاف کامیاب ویکسین آخری مراحل میں

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption اس ویکسین کی متعدد افریقی ممالک میں ٹیسٹنگ کی گئی جس میں 1500 نومولود اور بچے شامل تھے

ماہرین نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ سال ملیریا کے تدارک کے لیے اپنی نوعیت کی پہلی ویکسین منظور کی جا سکتی ہے۔

ایک طبی جریدے پلاس میڈیسن میں شائع ہونے والے مضمون میں، محققین نے، ملیریا کے لیے بنائی گئی ویکسین آر ٹی ایس، ایس کو خاصا کارآمد قرار دیا ہے۔

ابتدائی تحقیق میں اسی فیصد کامیاب نتیجے پر، دوا ساز کمپنی، گلیکسو سمِتھ کلائین نے یورپی میڈیسن اتھارٹی کو درخواست دی ہے کہ ملیریا کی آر ٹی ایس، ایس ویکسین کو، بین الاقوامی سطح پر استعمال کی اجازت دی جائے۔

یہ اِس نہج تک پہنچنے والی پہلی ملیریا کی ویکسین ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ دو ہزار پندرہ تک اِس کے استعمال کی اجازت دے دی جائے گی۔

اس ویکسین کی متعدد افریقی ممالک میں ٹیسٹنگ کی گئی جس میں 1500 نومولود اور بچے شامل تھے۔

اٹھارہ ماہ کے بعد جب نتائج جمع کیے گئے تو محققین کو معلوم ہوا کہ بچوں میں ملیریا کی شرح تقریباً نصف ہوگئی۔

اس کے علاوہ نومولود بچوں میں متاثرہ بچوں کی تعداد میں ایک چوتھائی کمی آئی۔

اگرچہ اس ویکسین کا اثر وقت کے ساتھ قدرے کم ہوتا جاتا ہے تاہم رپورٹ کے مطابق ایسے علاقوں میں جہاں یہ بیماری انتہائی شدید مسئلہ بن چکی ہے، وہاں یہ ویکسین بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

لندن کی سینٹ جارج یونیورسٹی کے پروفیسر سنجیوو کرشنا اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے تاہم انھوں نے اس کا جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی اہم پیش رفت اور ملیریا کے خلاف ہماری کوششوں میں اہم قدم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ملیریا پر تحقیق کی راہیں لاشوں سے بھری پڑی ہیں اور ویکسینیں ناکام ہوتی جا رہی ہیں۔ اس مرحلے تک پہنچنا انتہائی حوصلہ مند ہے۔‘

ملیریا کے دنیا بھر میں لاکھوں مریض ہیں اور ہر سال اس کی وجہ سے آٹھ لاکھ اموات ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں