ڈائنوسار ’سکڑ‘ کر پرندے بن گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جسمانی خصوصیات کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ تھیروپوڈ کی جسامت میں کمی قدیم ترین پرندے آرکی اوپٹیرکس سے پانچ کروڑ سال پہلے شروع ہوئی تھی

سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ بڑے گوشت خور ڈائنوسار گذشتہ پانچ کروڑ برسوں میں سکڑ سکڑ کر پرندے بن گئے ہیں۔

تھیروپوڈ نسل کے بعض ڈائنوسار 12 گنا سکڑ کر 163 کلو سے 800 گرام تک گھٹ کر پرندے بن گئے۔

سائنس دانوں نے دریافت کی کہ تھیروپوڈ وہ واحد ڈائنو سار تھے جو مسلسل سکڑتے رہے۔ ان کے ڈھانچے چار گنا زیادہ تیزی سے تبدیل ہوئے جس سے انھیں اپنی نسل کی بقا میں مدد ملی۔

اس نسل کے ڈائنوساروں میں ٹی ریکس اور ویلوسی ریپٹر جیسے معروف ڈائنوسار شامل ہیں۔

یہ تحقیق جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے۔

اس سے قبل کی جانے والی تحقیق سے ظاہر ہوا تھا کہ تھیروپوڈ ارتقائی مراحل سے گزر کر جدید پرندوں کے روپ میں ڈھل گئے تھے۔

حالیہ ریسرچ میں سائنس دانوں نے مالیکیولر بیالوجی کے جدید ترین طریقے استعمال کر کے ڈائنوساروں اور قدیم پرندوں کی 120 نسلوں کے جسموں کی 1500 سے زیادہ خصوصیات کا مطالعہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption جسامت میں کمی اور بال و پر جیسی خصوصیات پیدا کرنے سے پرندوں کو اپنی نسلوں کی بقا میں مدد ملی

اس تجزیے سے سائنس دان ایک تفصیلی شجرہ بنانے میں کامیاب ہو گئے جس سے تھیروپوڈ ڈائنوساروں کے پرندوں میں تبدیل ہونے کے عمل پر روشنی پڑتی تھی۔

اس سے معلوم ہوا کہ کس طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈائنوساروں کی مختلف نسلوں کی جسامت میں کمی آتی چلی گئی۔

پرندوں کے ان آباواجداد نے کئی نئی مطابقتیں بھی اختیار کیں جن میں بال و پر اور پرندوں کے سینے میں پائی جانے والی مخصوص ہڈی شامل ہیں۔

تحقیق کاروں نے کہا ہے کہ سکڑنے اور پرندوں جیسے خصوصیات پیدا کرنا وہ عوامل تھے جنھوں نے ڈائنوساروں سے پرندوں کے ارتقا میں مدد دی۔

نئی خصوصیات اور کم جسامت کے باعث پرندوں کے ان آباواجداد کو دوسرے ڈائنوساروں کے مقابلے پر حالات کا بہتر طور پر مقابلہ کرنے میں مدد دی۔

تحقیق کے سربراہ آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ کے مائیک لی کہتے ہیں: ’دیووں کے دیس میں چھوٹے اور ہلکا ہونے اور تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی جسمانی تبدیلیوں کی وجہ سے پرندوں کے ان آبا کو نئی ماحولیاتی مواقع حاصل ہوئے جن میں درختوں پر چڑھنا، گلائیڈ کرنا اور اڑنا شامل ہیں۔

’آخرکار اس ارتقائی لچک نے پرندوں کو اس شہابِ ثاقب کے تباہ کن اثرات سے بچنے میں مدد دی جس نے ان کے رشتے دار بڑے ڈائنوساروں کو ختم کر ڈالا تھا۔‘

تاہم یہ تبدیلیاں اچانک رونما نہیں ہوئیں بلکہ کروڑوں سالوں پر محیط تھیں۔ یونیورسٹی آف برسٹل کے پروفیسر مائیکل بینٹن کہتے ہیں: ’اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈائنوسار ڈرامائی طور پر راتوں رات نہیں پرندے بنے۔

’پرندوں کی خصوصیات طویل عرصے میں تبدیل ہوئیں۔ بال و پر پہلے صرف گرم رکھنے کے لیے تھے، بعد میں انھیں اڑنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ جسامت میں کمی شاید دوسرے مقاصد کے لیے تھی، بعد میں اس کی مدد سے پرواز میں مدد ملی۔ اس طرح قوتِ بصارت اور دماغ کے حجم میں اضافہ بھی ان حالات میں مددگار ثابت ہوا۔‘

اسی بارے میں