ایک لاکھ مکمل ڈی این اے کوڈز کا نقشہ تیار کرنے کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ thinstock
Image caption برطانیہ میں کینسر اور دیگر موذی امراض کے علاج کے لیے ایک لاکھ مکمل ڈی این اے کوڈز کا نقشہ تیار کرنے کے منصوبے کا آغاز ہوا ہے

برطانیہ میں سائنسدانوں نے کینسر اور دوسری موذی بیماریوں کے علاج کے طریقوں میں انقلاب برپا کرنے کی غرض سے ایک لاکھ مکمل ڈی این اے کوڈز کا نقشہ تیار کرنے کے منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔

اس منصوبے میں جسے ’جینومکس انگلینڈ‘ کا نام دیا گیا ہے مریضوں اور ان کے قریبی رشتے داروں کے صحتمند اور بیمار دونوں خلیوں کا تجزیہ کیا جائے گا۔

منصوبے کی ایک نگراں وِوین پیری کہتی ہیں کہ سائنسدانوں کو امید ہے کہ جینیاتی کوڈ میں معمولی سی تبدیلیوں کا پتہ چلانے سے مریض کے علاج کو زیادہ مرکوز اور مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایک جینوم آپ کے جسم کا ہدایت نامہ ہوتا ہے اور جسم کے تقریباً ہر خلیے میں اس کی ایک کاپی ہوتی ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ہر انسان جو کینسر میں مبتلا ہو جائے تو اس کو لاحق کینسر دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔

اس تحقیقاتی منصوبے میں شامل ووین میری نے مزید کہا کہ ’اصل میں جسم کے کسی خلیے کے ہدایت نامے میں تبدیلیوں سے ہی کینسر کا مرض بڑھتا ہے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ اپنے صحتمند اور کینسر زدہ خلیوں کے ہدایت ناموں کو دیکھیں اور دونوں میں جو فرق ہوتا ہے اس کا پتہ چلا کے آپ اپنے کینسر کا بہترین علاج کرسکتے ہیں۔‘

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ برطانیہ کو جینیاتی تحقیق کے شعبے میں عالمی رہنما بنا دے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ منصوبے پر 50 کروڑ ڈالر کی لاگت آئے گی اور یہ 2017 تک مکمل ہوگا۔

اسی بارے میں