کینیڈا نے قطب شمالی کی میپنگ کا آغاز کردیا

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption کینیڈا کے علاوہ روس اور ڈنمارک بھی قطب شمالی کے آرکٹک سمندر کے وسیع علاقوں پر اپنا دعوی پیش کرتا رہا ہے

کینیڈا نے آرکٹک میں میپنگ کا آغاز کیا ہے تاکہ قطب شمالی تک اپنے رقبے کے ہونے کے دعوے کو مزید مستحکم کرسکے۔

چھ ہفتے تک جاری رہنے والی یہ مہم دوسرے ممالک سے مقابلے کے نتیجے میں سامنے آئی ہے کیونکہ قطب شمالی کے علاقے آرکٹک پر روس سمیت کئی ممالک اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں۔

دو برف شکن جہاز نیوفاؤنڈلینڈ اعدادوشمار اکٹھے کرنے کے لیے ایلزمیئر سے اپنے سفر کا آغاز کریں گے اور قطب شمالی تک پہنچیں گے۔

کہا جاتا ہے کہ اس علاقے میں قدرتی تیل اور گیس کے بڑے ذخائر ہیں۔

اس سلسلے میں روس اور ڈنمارک بھی لومونوسوو پہاڑی علاقے کے قریب وسیع علاقے پر اپنے دعوے پیش کرتے رہے ہیں۔

تینوں ممالک سائنسی شواہد حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ یہ علاقہ ان کے زمینی خطے کا ہی سلسلہ ہے ۔

اس علاقے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں دنیا کے غیر دریافت شدہ تیل کے 13 فی صد اور گیس کے 30 فی صد ذخائر ہیں۔

کینیڈا حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلا برف شکن جہاز نے نیوفاؤنڈ لینڈ میں سینٹ جونز کے مقام سے جمعے کو روانہ ہو چکا ہے جبکہ دوسرا سنیچر کو روانہ ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Jorn Ranum
Image caption اس علاقے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں دنیا کے غیر دریافت شدہ تیل کے 13 فی صد اور گیس کے 30 فی صد ذخائر ہیں

اقوام متحدہ کے سمندر سے متعلق قانون کے تحت کوئی ساحلی ملک اس سمندر میں موجود قدرتی ذخائر پر اپنے ملک کے ساحل سے 370 ناٹیکل کلومیٹر تک اپنا مخصوص معاشی حق پیش کر سکتا ہے۔

لیکن اگر اس کا فرش اس فاصلے سے بھی زیادہ ہے تو پھر اس ملک کو اقوام متحدہ کے سامنے شواہد فراہم کرنے ہوں گے تبھی وہ اس کی حد بڑھانے کے لیے تجویز پیش کرے گي۔

اسی بارے میں