’ٹوئٹر کے دو کروڑ 30 لاکھ صارفین انسان نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES

مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر نے ایک حالیہ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ اس کے ساڑھے آٹھ فیصد صارفین حقیقی نہیں ہیں جنھیں ’خود بخود بغیر کسی صارف کی جانب سے کوشش کے اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔‘

اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو ٹوئٹر کے مطابق جون 2014 کے آخر تک اس کے کُل 27 کروڑ صارفین میں سے دو کروڑ 30 لاکھ ایسے اکاؤنٹس ہیں۔

یہ معلومات ٹوئٹر کی جانب سے حال ہی میں سرمایہ کاروں کے لیے جاری کیے گئے بیان میں جاری کی گئیں۔

یہاں یہ واضح رہے کہ بوٹس یا ایسے اکاؤنٹس جنہیں کوئی انسانی براہِ راست نہیں چلاتا کا مطلب یہ نہیں کہ یہ جعلی اکاؤنٹ ہیں۔

ان میں سے ایسے بہت سے اکاؤنٹس ہیں جو مختلف کمپنیوں اور برانڈز کی جانب سے ان کے کمپیوٹر صارف چلاتے ہیں۔

ان میں کوکا کولا، اقوامِ متحدہ اور بہت سارے دوسرے برانڈز شامل ہیں۔

فیس بک کے مقابلے میں ٹوئٹر کا معاملہ مختلف ہے جو صرف انسانوں کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں کئی جانور اور پرندے بھی شامل ہو چکے ہیں جن کے بہت بڑے بڑے اکاؤنٹس ہیں۔

فیس بک برانڈز کے لیے ایک صفحہ بنانے کو لازمی قرار دیتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ انسانی صارفین کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہو گی جب ٹوئٹر یہ بتائے گا کہ صارفین کتنا وقت اس پر گزارتے ہیں۔

فیس بک نے حال ہی میں یہ تفصیلات جاری کی تھیں جس کے مطابق اس کے صارفین اوسطاً 40 منٹ روزانہ اس کی ویب سائٹ پر گزارتے ہیں۔

اسی بارے میں