دولتِ اسلامیہ اب ڈائسپورا پر سرگرم

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

سوشل میڈیا ویب سائٹ ڈائسپورا کے منتظمین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے وہ شدت پسندی پر مبنی مواد کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام ہیں۔

ڈائسپورا ایک غیر مرکزی نیٹ ورک ہے جس کا ڈیٹا مختلف پرائیویٹ سرورز پر محفوظ کیا جاتا ہے جسے ایک واحد ایڈمنسٹریٹر کنٹرول نہیں کرتا ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے ٹوئٹر کی جانب سے اس کے اکاؤنٹس بند کیے جانے پر ڈائسپورا پر منتقل ہونا شروع کیا ہے۔

اس ویب سائٹ کے بنانے والوں نے کہا ہے کہ وہ اس نوعیت کی حرکات پر ’تشویش‘ کا شکار ہے۔

ایک بلاگ پوسٹ میں انہوں نے لکھا ’کئی اخبارات نے خبر دی ہے دولتِ اسلامیہ کے اراکین نے ڈائسپورا پر اپنے گروپ کی کارروائیوں کی تشہیر کے لیے اکاؤنٹس بنائے ہیں ۔‘

’ماضی میں انہوں نے ٹوئٹر اور دوسرے پلیٹ فارمز کا استعمال کیا ہے اب لگ رہا ہے کہ وہ آزاد اور اوپن سورس ویب پلیٹ فارمز پر منتقل ہو رہے ہیں۔‘

اس پوسٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ ہمارے کئی سرورز ہیں جو آزاد ہیں جنہیں پوڈز کہتے ہیں جنہیں ڈائسپورا کی مرکزی ٹیم کنٹرول نہیں کرتی ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ پروجیکٹ کی ٹیم کا ویب سائٹ پر آنے والے مواد کو ہٹانے پر کوئی اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے اس میں لکھا کہ ’یہی ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے اسے منتخب کیا ہے۔‘

ڈائسپورا کو 2010 میں نیویارک کے چار طلبا نے شروع کیا تھا جس کے لیے کراؤڈ فنڈنگ (عام عوام کے پیسہ) کا سہارا لیا گیا تھا۔

ڈائسپورا نے کہا ہے کہ وہ اپنے پوڈز کے ایڈمنسٹریٹر سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ انہیں اس خطرے سے خبردار کیا جا سکے اور اس کے قانونی مسائل کے بارے میں انہیں آگاہ کیا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دولتِ اسلامیہ کے حامیوں نے ٹوئٹر کا استعمال کرتے ہوئے مغربی ممالک پر تنقید کی اور اپنے مقاصد کت تشہیر کی گئی۔

ویب سائٹ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ہم نے دولتِ اسلامیہ کے اکاؤنٹس کی فہرست مرتب کی ہے اور جن سرورز پر وہ رکھی ہیں ان سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ ’اب تک بڑے پوڈز سے دولتِ اسلامیہ سے متعلق اکاؤنٹس اور پوسٹس ہٹائی جا رہی ہیں۔‘

تاہم انہوں نے وضاحت کیا کہ چھوٹے پوڈز کے مالکان سے رابطہ اور اکاؤنٹس کے ہٹائے جانے کے لیے ان کو کہنے کا عمل بڑا چیلنج ہے۔

کتاب دی ڈارک نیٹ کے مصنف جیمی بارٹلٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس سلسلے میں کچھ زیادہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘

جیمی نے کہا کہ ’ٹیکنالوجی کے حساب سے غیر مرکزی سروسز کی نگرانی بہت مشکل ہے۔ ہر بار جب ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو ایسے لوگ زیادہ سمجھدار ہو جاتے ہیں اور پکڑے جانے سے بچنے کے لیے زیادہ بہتر ہو جاتے ہیں۔‘

تاہم جیمی کا خیال ہے کہ ’یہ بالکل ممکن ہے کہ دولتِ اسلامیہ اس طرح کی جدت کو پہلے اپنانے والوں میں سے ایک ہو گی۔‘

اسی بارے میں