دہری ویکسین سے پولیو کا جلد خاتمہ ہو سکتا ہے: تحقیق

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بنوں میں ایک بچے کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جا رہے ہیں

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پولیو کی دو اقسام کی ویکسین استعمال کرنے سے دنیا کو اس مرض سے جلد چھٹکارا دلانے کی کوششوں میں تیزی آ سکتی ہے۔

قطروں کی شکل میں پلائی جانے والی ویکسین دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کے لیے مددگار ثابت ہوئی ہے، لیکن بھارت میں کیے جانے والے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ قطروں کے ساتھ ساتھ اضافی طور پر ویکسین کا انجیکشن لگانے سے اس مرض کے وائرس کے خلاف مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے والی یہ دریافت ’صحیح معنوں میں تاریخی‘ ہے۔

یہ مرض متاثرہ مریض کے فضلے سے پھیلتا ہے اور اس سے مریض زندگی بھر کے لیے اپاہج ہو کر رہ جاتا ہے جب کہ بعض مریض ہلاک بھی ہو سکتے ہیں۔

پولیو کے خلاف جنگ عالمی صحت کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ 1988 میں دنیا بھر کے 125 ملکوں میں پولیو کے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ مریض تھے۔ لیکن اب یہ مرض صرف تین ملکوں یعنی پاکستان، افغانستان اور نائجیریا تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ عالمگیر سطح پر اس مرض کے مریضوں کی تعداد میں 99 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

پولیو کی روک تھام کے لیے اس کی ویکسین کے دو قطرے پلائے جاتے ہیں۔ اس کے اندر پولیو وائرس کمزور حالت میں موجود ہوتا ہے، جو مرض تو نہیں پھیلا سکتا لیکن اس کے خلاف جسم کا مدافعتی نظام حرکت میں آ جاتا ہے جو مرض پیدا کرنے والے وائرس کا مقابلہ کرتا ہے۔

یہ قطرے بہت سستے ہوتے ہیں نظامِ انہضام میں کام کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے پر انجیکشن سے دی جانے والی ویکسین خون کے اندر شامل ہو کر کام کرتی ہے۔

لندن کے امپیریل کالج کے پروفیسر نکولس گراسلی نے بی بی سی کو بتایا: ’منھ سے دی جانے والی ویکسین نسبتاً کم طاقت ور ہوتی ہے۔‘

ایک خیال یہ بھی ہے کہ دوسرے انفیکشن اس ویکسین کی تاثیر پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اس کا حل دہری ویکسین ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے بھارت کی کامیاب مہم میں پانچ سال تک کی عمر کے بعض بچوں کو 30 خوراکیں دی گئی تھیں۔

تاہم تجربات سے معلوم ہوا کہ ویکسین کا انجیکشن منھ سے دی جانے والی متعدد خوراکوں سے زیادہ کارگر ہے۔

تاہم اس مرض کا مقابلہ کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ویکسین کا انتخاب نہیں بلکہ شورش زدہ علاقوں میں بچوں تک رسائی ہے۔ اس علاقوں میں سلامتی کے بڑے مسائل موجود ہیں اور ویکسین کے پروگرام کو سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ہے۔

2012 میں پاکستانی طالبان نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں اس وقت تک پولیو ویکسینیشن مہم پر پابندی لگا دی تھی جب تک امریکی ڈرون حملے نہ روکے جائیں۔

پروفیسر گراسلی کہتے ہیں: ’اگر رسائی محدود ہو تو آپ کو زیادہ موثر مہم چلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ قطرے اور انجیکشن دونوں استعمال کریں تو کم مدت میں زیادہ کامیابی مل سکتی ہے۔‘

دہری ویکسین نائجیریا میں پہلے ہی استعمال کی جا رہی ہے اور جلد ہی اسے پاکستان میں بھی متعارف کروایا جائے گا۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈاکٹر بروس آئلوارڈ کہتے ہیں: ’اس تجربے کے نتائج پولیو کے خاتمے کے ضمن میں صحیح معنوں میں تاریخی ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’اس سے پولیو ویکسین کے بارے میں ہماری تفہیم میں اور بچوں کو پولیو سے بہترین اور فوری تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں انقلابی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔‘

اسی بارے میں