گیلیلیو سیارے غلط مدار میں جا پہنچے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس منصوبے کے تحت پانچواں اور چھٹا سیارہ فرنچ گیانا سے خلا میں چھوڑا گیا جس کے بارے میں ESA کا کہنا ہے ان کے کنٹرول میں ہے

یورپی خلائی ایجنسی ای ایس اے کا کہنا ہے اس کے دو حالیہ مصنوعی سیارے جو امریکی جی پی ایس نیویگیشن سسٹم کا یورپی ورژن ہیں درست مدار میں نہیں پہنچ پائے ہیں۔

تاہم اس کا کہنا ہے کہ ان کا پانچواں اور چھٹا سیارہ جسے فرنچ گیانا سے جمعے کو چھوڑا گیا تھا کنٹرول میں ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔

سیارے ڈوریسا اور میلینا کو سیوز راکٹ کے ذریعے مدار میں چھوڑا گیا تھا مگر اس عمل میں انہیں خراب موسم کی وجہ سے 24 گھنٹے کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

ان سیاروں کو بنانے والی کمپنی آریان سپیس نے ایک بیان میں کہا کہ ’ان مصنوعی سیاروں کے سویوز VS09 راکٹ سے علیحدہ ہونے اور اس کے بعد گیلیلیو مشن پر روانہ ہونے کے مرحلے کے جائزے سے پتا چلا ہے کہ جس مدار میں انہیں پہنچانے کا منصوبہ تھا وہ اس مدار میں نہیں پہنچ پائے۔‘

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وہ اس مدار سے نچلے مدار میں پہنچے ہیں جہاں توقع کے مطابق انہیں پہنچنا چاہیے تھا۔ ہماری ٹیمیں اس سب کے مصنوعی سیارے پر اثر کا جائزہ لے رہی ہیں۔‘

اے ایف پی کا کہنا ہے کہ آریان سپیس نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ ان مصنوعی سیاروں کو خلا میں چھوڑنے کی ٹریجکٹری کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔

کئی سالوں کے التوا کے بعد اب گیلیلیو مشن بلاخر مکمل عملدرآمد کی جانب بڑھ رہا ہے۔

یورپی خلائی ایجنسی یہ نظام یورپی یونین کے لیے تیار کر رہی ہے اور اس منصوبے کے تحت 2017 تک اس کا 26 مصنوعی سیاروں کا ایک جھرمٹ بنانے کا منصوبہ ہے۔

یورپی یونین اس منصوبے میں کروڑوں کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ گیلیلیو سے یورپی معیشت کو منافع ملے گا نئے کاروبار کی شکل میں جو اس منصوبے کی وجہ سے ممکن ہو سکے گا۔

اسی بارے میں